یونان کے قریب کشتی کے حادثے میں 26 تارکین وطن ڈوب گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہلاک ہونے والوں کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا( فائل)

یونان کے ساموس جزیزے کے قریب کشتی کے حادثے میں بچوں سمیت کم از کم 26 تارکین وطن ڈوب گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والوں میں دس بچے بھی شامل ہیں اور چند دنوں میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

دوسری جانب اطالوی بحریہ کو لیبیا کی سمندری حدود کے قریب سے چھ لاشیں ملی ہیں۔

یونان نے سرحدوں کی حفاظت میں ’لاپرواہی‘ برتیپناہ گزینوں کا بحران، ’یورپ کے پاس زیادہ وقت نہیں‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ تارکین وطن کی شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں رواں برس ہلاکتوں کا پہلا واقعہ ہے۔

یونان کے جزیزے کے قریب تارکین وطن کی ہلاکتوں کا واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب نیدرلینڈ نے تجویز دی ہے کہ یونان پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیج دیا جائے۔

ابھی تک ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

زیادہ تر تارکین وطن شام، عراق اور افغانستان میں جاری تنازعات کی وجہ سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر سمندر کا کشتیوں کے ذریعے پرخطر سفر کرتے ہیں۔

یورپی یونین کی سرحدی نگرانی کی ایجنسی ساموس میں کشتی کے حادثے میں بچ جانے والوں کی تلاش کے آپریشن میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رواں ماہ 46 ہزار کے قریب تارکین وطن یورپ پہنچ چکے ہیں

نیدرلینڈ کی جانب سے تارکین وطن کے مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے پیش کردہ تجویز کے مطابق یونان کے جزائر میں پہنچنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کو کشتیوں کے ذریعے فوری طور پر واپس ترکی بھیج دیا جائے۔

ترکی سے گذشتہ برس ساڑھے آٹھ لاکھ افراد تارکین یونان کے جزائر پہنچے تھے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ اس تجویز کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ پناہ کے خواہش مند افراد کو واپس دھکیل دیں۔

یونان میں رواں ماہ اب تک 46 ہزار تارکین وطن پہنچ چکے ہیں جبکہ دو سو اس سفر کے دوران ہلاک ہو گئے۔

سنہ 2015 میں دس لاکھ سے زائد افراد یورپ پہنچے ہیں اور ان میں بڑی تعداد نے ترکی سے یورپ کا سفر کیا تھا۔

اسی بارے میں