جنازے پر ’فحش مواد‘ دکھانے کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ South Wales Police
Image caption سائمن لوئس اور ان کا بیٹا ایک کار حادثے میں ہلاک ہوئے تھے

ایک والد اور ان کے بیٹے کے جنازے پر ٹی وی پر مبینہ طور پر پورنو گرافی دکھائے جانے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بدھ کو کارڈف میں تھورن ہل قبرستان میں 33 سالہ سائمن لوئس اور ان کے بیٹے کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔

روو لائنل فینتھروپ کا کہنا ہے کہ ’اس واقعے نے سوگواروں کو شدید پریشان کیا ہے اور کارڈف کونسل نے خاندان والوں سے غیر مناسب مواد پر معافی مانگی ہے۔‘

لوئس اور ان کا بیٹا سال نو کی شام ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

میڈیا ویلز کے مطابق ایک گمنام سوگوار نے دعویٰ کیا ہے کہ انتہائی فحش مواد ٹی وی پر دکھایا گیا ہے۔

کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کونسل نے سوگوار خاندان سے تحریری طور پر معافی مانگی ہے اور فوری تحقیقات کا کہا ہے۔‘

روو فینتھروپ کا کہنا ہے کہ ’میں اجتماع یا دعاؤوں کی کتاب کی جانب دیکھ رہا تھا۔ مجھے ایسا سنائی دیا جیسے شاپنگ سینٹر میں آوازیں ہوں لیکن میں انھیں دیکھ نہیں سکتا۔‘

سائمن کے سسر اس واقعے سے انتہائی افسردہ ہوئے ہیں۔ وہ تیزی کے ساتھ آگے آئے اور انجینئیر سے درخواست کی ’اسے بند کر دیں، اسے بند کر دیں۔ خوش قسمتی سے کچھ ہی سکینڈوں میں یہ بند ہو گیا۔‘

’یہ وہ نہیں تھا جس کے بارے میں کسی نے کبھی تصور کیا ہوگا یا خواہش کی ہوگی۔ مجھے ممکنہ طور پر بہت ہمدردی ہے۔‘

آخری رسومات کے موقع پر خراج پیش کرنے کے لیے چار سکرینوں کا استعمال کیا گیا تھا اور کونسل کا کہنا ہے کہ جس سکرین پر فحش مواد دکھایا گیا وہ حال ہی میں نصب کی گئی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس نئی سکرین پر جو کہ ایک سمارٹ ٹیلی وژن ہے نے حادثاتی طور پر بلو توٹھ یا وائی فائی کے ذریعے آس پاس کی کسی نشریات کو دکھایا۔‘

’باقی تینوں سکرینیں جو کہ سمارٹ ٹی وی نہیں تھیں اس لیے وہ متاثر نہیں ہوئیں۔ ہم واضح طور پر جانتے ہیں کہ کسی بھی اہلکار کے لیے سکرینوں سے جڑے کمپیوٹروں پر کچھ بھی پلے کرنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا ممکن نہیں۔‘

اسی بارے میں