برطانوی خاتون پر دولت اسلامیہ سے تعلق کا جرم ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 26 سالہ برطانوی خاتون پر خودساختہ خلافت سے واپسی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے

برطانوی خاتون ترینہ شکیل جو اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ شام گئی تھیں، شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی رکنیت کی مجرم قرار پائی ہیں۔

26 سالہ برطانوی خاتون پر خود ساختہ خلافت سے واپسی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

برمنگھم سے تعلق رکھنے والی ترینہ شکیل کو ٹوئٹر پر پیغامات کے ذریعے دہشت گردی کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کا مجرم بھی ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ شام گئی تھیں۔

برمنگھم کراؤن کورٹ میں دو ہفتے کی سماعت کے بعد، ججز نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ان کی خواہش صرف شرعی قانون کے زیر اثر علاقے میں رہنے کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ West Midlands Police
Image caption ترینہ شکیل دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقے سے جنوری 2015 سے لوٹ آئیں

ججز نے انھیں ان کے وہ ٹویٹس، پیغامات اور تصاویر دکھائیں جن میں دولت اسلامیہ کے نشان والی تصاویر بھی شامل تھیں اور انھوں نے ’ہتھیار اٹھانے‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

ترینہ شکیل اکتوبر 2014 میں خفیہ طور پر شام چلے گئی تھیں جہاں سے انھوں نے تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں ان کے بیٹے کے سر پر دولت اسلامیہ کا جھنڈا بندھا ہوا بھی دکھایا گیا تھا۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ ’ہیٹ‘ یا ٹوپی پسند کرتا ہے۔

ترینہ شکیل کے وکلا کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ شام اس لیے گئی تھیں کہ وہ ’ناخوش خاندانی زندگی‘ سے فرار چاہتی تھیں۔

این ایس پی سی سی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ ایک ماں اپنے بچوں کو اس قدر خطرناک صوتحال میں ڈالنے کی خواہش رکھتی ہے، جس سے اس کو نقصان اور موت کا خطرہ ہوسکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ West Midlands Police
Image caption این ایس پی سی سی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ ایک ماں اپنے بچوں کو اس قدر خطرناک صوتحال میں ڈالنے کی خواہش رکھتی ہے‘

ترینہ شکیل دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقے سے جنوری 2015 سے لوٹ آئیں۔

ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ وہ شام میں ناخوش تھیں اور انھوں نے عدالت کو بتایا: ’میں اپنی مرضی سے واپس آئی ہوں۔ میں واپس آئی ہوں کیونکہ مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلطی کی تھی۔‘

ترینہ شکیل کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہ کے شکنجوں سے ایک بس کے ذریعے فرار ہوئیں اور ایک ٹیکسی والے کو رشوت دے کر ترکی کی سرحد پار کی۔

ترینہ شکیل کو پیرکے روز سزا سنائی جائے گی۔

اسی بارے میں