پناہ گزینوں کا بحران، جرمنی کا نئے اقدامات کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وہ پناہ گزین جن کا درجہ محدود ہوگا وہ دو برس تک اپنے رشتہ داروں کو جرمنی نہیں بلا سکیں گے

جرمنی میں حکمران اتحاد نے ملک کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

پناہ گزینوں کے حالیہ بحران کے دوران سنہ 2015 میں جرمنی میں 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل ہوئے ہیں۔

اس تجاویز پر اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں اتفاقِ رائے کیا گیا۔

اجلاس کے بعد اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے جرمن وائس چانسلر سگمار گیبریئل کا کہنا تھا کہ وہ پناہ گزین جن کا درجہ محدود ہوگا وہ دو برس تک اپنے رشتہ داروں کو جرمنی نہیں بلا سکیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی الجزائر، مراکش اور تیونس کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے بعد ان ممالک کے شہری جرمنی میں پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔

مراکش نے جرمن وائس چانسلر کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ایسے باشندوں کو واپس قبول کرے گا جو غیرقانونی طور پر جرمنی میں داخل ہوئے ہوں گے۔

سگمار گیبریئل نے ایسے پناہ گزینوں کی ان کے متعلقہ ممالک میں واپسی کا عمل بھی تیز کرنے کا اعلان کیا جن کی جرمنی میں پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پناہ گزینوں کے معاملے پر جرمنی میں حکمران اتحاد میں کھنچاؤ واضح ہے

ان تجاویز کی جرمن پارلیمان اور حکومت سے منظوری ضروری ہے۔

پناہ گزینوں کے معاملے پر جرمنی میں حکمران اتحاد میں کھنچاؤ واضح ہے اور اس اتحاد کا حصہ کرسچیئن سوشل یونین کا کہنا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کی آمد کے معاملے سے فیصلہ کن انداز میں نہ نمٹا گیا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔

خیال رہے کہ سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر جرمن شہر کولون میں پیش آنے والے تشدد اور جنسی حملوں کے واقعات کے بعد بھی ملک میں پناہ گزینوں کے خلاف جذبات بھڑکے ہیں۔

ان معاملات کی تفتیش کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد میں سے بیشتر تارکینِ وطن ہیں اور اُن کا تعلق شمالی افریقی اور عرب ممالک سے ہے۔

خواتین سے بدسلوکی کے واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں بھی تجویز کی ہیں۔

اسی بارے میں