جب سٹالن نے ماؤ کے فضلے کی ’جاسوسی‘ کی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایک سابق سوویت اہلکار کا کہنا ہے کہ اسے ثبوت ملا ہے کہ جوزف سٹالن نے ماؤ زے تنگ سمیت کئی لوگوں کے فضلوں کا جائزہ لے کر ان کا نفسیاتی خاکہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔

جوزف سٹالن 1920 کی دہائی سے لے کر 1953 تک سوویت یونین کے رہنما تھے اور ماؤ زے تنگ جدید چین کے بانی تھے۔

روسی اخباروں کی خبروں کے مطابق1940 کی دہائی میں سٹالن کی خفیہ پولیس نے لوگوں کے فضلے حاصل کرنے کے لیے ایک خاص محکمہ قائم کر رکھا تھا۔

محکمے کا سب سے اہم مقصد بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے فضلوں کے نمونوں کا جائزہ لینا تھا۔

سابق سویت ایجینٹ ایگور آٹامنینکو نے اس خفیہ منصوبے کی دریافت کا دعویٰ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب وہ روسی خفیہ اداروں کی آرکائیوز پر تحقیق کر رہے تھے۔

انھوں نے ایک روزنامے کو بتایا کہ ’اُن دنوں میں سوویت یونین کے پاس آج کل کی طرح جاسوسی کرنے والے جدید آلات نہیں تھے، اس لیے ہمارے خفیہ افسروں نے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف قسم کے طریقہ کار اپنائے۔‘

ایگور آٹامنینکو کا کہنا ہے کہ سٹالن نے اپنی خفیہ لیبارٹری کی ذمہ داری اپنے ملازم لاورینتی بریا کو دے رکھی تھی۔

Image caption ماؤ اور سٹالن کمیونزم کی دنیا کے سب سے طاقتور رہنما تھے

جب میں نے ایگور کے ساتھ رابطہ کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ سوویت سائنس دان انسانی فضلے کی تلاش کرتے تھے۔

انھوں نے کہا: ’مثال کے طور پر اگر انھیں کسی کے فضلے میں ٹرپٹوفین نامی امینو ایسڈ کی سطح زیادہ دکھائی دیتی تھی تو وہ اس نتیجے پر پہنچتے تھے کہ وہ انسان پر سکون اور قابلِ رسائی ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’لیکن اگر انھیں کسی کے فضلے میں پوٹاشیم کی کمی نظر آتی تھی تو وہ اس نتیجے پر پہنچتے تھے کہ وہ انسان اعصابی مزاج کا اور بہت کم سوتا ہوگا۔‘

ایگور کا دعویٰ ہے کہ دسمبر 1949 میں سوویت یونین کے خفیہ ایجنٹوں نے اس نظام کے ذریعے چینی رہنما ماؤ زے تنگ کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں جنھوں نے اس دوران ماسکو کا دورہ کیا تھا۔

انھوں نے ماؤ کے لیے مبینہ طور پر خاص غسل خانے تیار کر رکھے تھے جن کی نالیاں نکاسی کے نظام کے بجائے خفیہ ڈبوں سے جڑی ہوئی تھیں۔

دس روز تک ماؤ کے لیے کئی دعوتیں کی گئیں اور ان کے فضلے کو تحقیق کے لیے بھیجا جاتا رہا۔

اطلاعات کے مطابق سٹالن نے فضلےکا جائزہ لینے کے بعد ماؤ کے ساتھ معاہدہ طے کرنے سے انکار کر دیا۔

روس کے سب سے مشہور اخباروں میں سے ایک ’کومسمولسکایا پراودا‘ کے مطابق سٹالن کے جانشین نیکیتا خروشیف نے یہ منصوبہ اور لیبارٹری بند کروا دی تھی۔

جب میں نے روس کی وفاقی سلامتی کی سروس (ایف ایس بی) سے رابطہ کر کے سٹالن کے خفیہ منصوبے کی تصدیق کرنے کی درخواست کی تو ادارے کے نمائندوں نے جواب میں کہا: ’ہم اس خبر پر کوئی جواب نہیں دے سکتے۔‘

اسی بارے میں