شامی اپوزیشن کی مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب کی حمایت یافتہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے نمائندے یقینی طور پر جینیوا میں نہیں ہوں گے

شام میں صدر بشار الاسد کی مخالف تنظیموں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے ملک میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے جمعے سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے نمائندے اس وقت تک جینیوا نہیں جائیں گے جب تک ان شامی شہریوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا جو محصور ہیں یا بمباری کی زد میں ہیں۔

تاہم اس کے باوجود اقوام متحدہ کے ایلچی سٹافن ڈی میستورا شام کی حکومت کے ساتھبراہ راست ’نزدیکی بڑھانے کے لیے‘ بات چیت کا عمل شروع کرنے کی تیاری میں ہیں۔

ان مذاکرات کی ترجیحات میں جنگ بندی،انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کو روکناشامل ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد نے اپنا وفد جینیوا بھیجنے پر اتفاق کیا ہے لیکن سعودی عرب کی حمایت یافتہ مذاکراتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے نمائندے یقینی طور پر وہاں نہیں ہوں گے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو ایک اجلاس کے بعد کمیٹی نے شکایت کی کہ اس نے حکومتی افواج کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے اور فضائی حملے بند کرنے کا جو مطالبہ کیا تھا اس کے لیے اسے مناسب جواب نہیں ملا ہے۔

کمیٹی کے صدر ریاض حجاب نے عربیہ ٹی کو بتایا ’ کل ہم جینیوا میں نہیں ہوں گے۔ ہم وہاں جا سکتے ہیں لیکن جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اس وقت تک ہم مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے۔‘

اس سے قبل اقوام متحدہ کے نمائندے نے شام کی عوام کے لیے ایک ویڈیو پیغام بھیجا تھا جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ بات چیت ناکام نہیں ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے نمائندے اس وقت تک جینیوا نہیں جائیں گے جب تک ان شامی شہریوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا جو محصور ہیں یا بمباری کی زد میں ہیں

اس میں کہا گيا تھا ’اب ہم آپ کی آواز سننا چاہتے ہیں، ہر اس شخص کی جو اس کانفرنس میں آرہا ہے اور کہہ رہا ہوں کہ یہ کانفرنس ایک ایسا موقع ہونا چاہیے جسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

شام کے مسئلے پر آخری بار بات چيت فروری 2014 میں دوسرے مرحلے میں ہی ناکام ہوگئی تھی اور اس کے لیے اقوام متحدہ نے شام کی حکومت کو اس لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا کیونکہ اس نے اپوزیشن کے اس مطالبے پر بات چيت سے انکار کر دیا تھا جس میں صدر بشار الاسد کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس کے باوجود کی حکومت کے موقف میں تبدیلی اب بہت کم آئي ہے امریکہ اور روس نے داعش کی بڑھتے قدم کے پیش نظر دوبارہ فریقین کو مذاکرات کے لیے راضی کیا ہے۔

حکومت سے نزدیکیاں بڑھانے کی غرض سے ہونے والی یہ بات چیت تقریبا چھ ماہ تک چلے گی اور مذاکرات کے درمیان مختلف گروہ آمنے سامنے بیٹھنے کے بجائے مختلف کمروں میں ہوں گے جن سے اقوام متحدہ کے اراکین روابط رکھیں گے۔

ان مذاکرات کا حتمی مقصد اقوام متحد کی گذشتہ ماہ کی قرارداد کے مطابق معاملے کا پر امن حل ہے جس میں انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی کا عمل بھی شامل ہے۔

گذشتہ ماہ ہی شامی حکومت نے کہا تھا کہ وہ ملک میں جاری شورش کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں