’دنیا والو ہم اتنے برے بھی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ویڈیو میں کہا جاتا ہے: ’ہماری ملکہ تمباکو نوشی کرتی ہیں اور ان کے شہر کام نہیں کرتے‘

’سلام دنیا والو، ہم معذرت خواہ ہیں لیکن ڈنمارک اتنی بھی بری جگہ نہیں ہے!‘

اقوام متحدہ کی اثاثے ضبط کرنے کے قانون پر تنقید

یہاں سے شروع ہوتی ہے ڈنمارک کے سرکاری ٹی وی چینل ڈی آر تھری کی طرف سے بنائی گئی ایک طَنزیہ ویڈیو جس کے ذریعے ملک کو حال ہی میں ملنے والی ’بری شہرت‘ سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈنمارک کو حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کی جانب ایک متنازع قانون کے حوالے بین لاقوامی سطح پرسخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت ڈنمارک آنے والے پناہ گزینوں کو رہائش اور خوراک فراہم کرنے کےلیے ان سے ان کی قیمتی چیزیں ضبط کر سکتی ہے۔

انگریزی زبان میں بنائی گئی ’ڈنمارک پروپیگنڈا‘ نامی اس ویڈیو کو دو روز میں فیس بک پر 12 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا اور 12 ہزار مرتبہ شیئر بھی کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں پہلے ملک کا مذاق اڑایا جاتا ہے جس کے بعد پھر ڈنمارک کی ان تمام چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر ملک کو بہت فخر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ؤیڈیو جاری ہونے کے بعد کئی لوگوں نے ڈنمارک پر تبصرے کیے ہیں

مثال کے طور پر بیکن کی پیداوار، کبھی کبھی پانی سے بھی سستی بیئراور ملک میں انفرادی خوشی کی اعلیٰ سطح ہونے کے ساتھ ساتھ خودکشی کی شرح میں بھی اضافہ۔

پھر ذکر ہوتا ہے تمباکو نوشی کرنے والی ملکہ کا، اُن سنجیدہ ٹی وی ڈراموں کا جن میں جاسوس اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔

ڈینش ٹی وی چینل کی کنٹرولر آئیرین سٹویر نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ’یہ تو سیدھا سادہ پروپیگنڈا ہے۔ اس ویڈیو کو مذاق کے طور پر لینا چاہیے۔ مثال کے طور پر جیسے ہم کہتے ہیں: ’سلام دنیا والوں، ہم لیگو بناتے ہیں، سب سے بہترین بیکن بناتے ہیں۔ ہمارے پاس شاہی خاندان ہے۔ براہ مہربانی، ہم سے محبت کریں‘

پناہ گزینوں کے اثاثےضبط کرنے والے بل کو اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جو یقیناً ڈینش باشندوں کو چبھا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے ایک اداریہ کی شہ سرخی ’پناہ گزینوں پر ڈنمارک کا ظلم‘ بھی اسی تنقید کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈنمارک نے اس سطح پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا شاید ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد کیا ہے جب ملک کے اخباروں نے پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکے شائع کیے تھے۔

آئیرین سٹویرکہتی ہیں کہ ’اس ویڈیو میں ملک کی بری شہرت کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک بہت سنجیدہ اور مشکل مسئلہ ہے جس سے ملک بٹ گیا ہے۔ ہم نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ لوگوں کو ہر چیز اتنی سنجیدگی سے نہیں لینی چاہیے اور کبھی کبھی اپنے آپ پر ہنس لینا چاہیے۔‘

اسی بارے میں