’دولت اسلامیہ کے جنگجو لیبیا میں پناہ لے رہے ہیں‘

Image caption دولت اسلامیہ نے گذشتہ سال سرت پر قبضہ کر لیا تھا

لیبیا کے ایک انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ماہ میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے کئی سینیئر کمانڈروں نے عراق اور شام سے آکر لیبیا میں پناہ لے رکھی ہے۔

اہلکار نے بی بی سی نيوز نائٹ کو بتایا کہ بہت سے غیر ملکی جنگجو لیبیا کے شہر سرت پہنچ رہے ہیں۔

لیبیا میں دولت اسلامیہ کے بڑھتے خطرے سے نبردآزما ہونے کے لیے 23 ممالک کے نمائندوں نے منگل کو اٹلی کے شہر روم میں ملاقات کی ہے۔

لیبیا میں حریف انتظامیہ کے درمیان اختلاف ہونے کی وجہ سے دولت اسلامیہ کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جا سکی ہے۔

سرت سابق لیبیائی رہنما معمر قذافی کا آبائی شہر ہے۔ قیاس ہے کہ دولت اسلامیہ کو قذافی کے کچھ وفاداروں کی طرف سے مدد مل رہی ہے۔

مصراتہ شہر میں انٹیلی جنس کے سربراہ اسماعیل شکری نے کہتے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں غیرملکی جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

’سرت میں دولت اسلامیہ کے بیشتر جنگجو غیر ملکی ہیں، 70 فیصد کے لگ بھگ۔ اس میں سب سے زیادہ تیونس، اس کے بعد مصری، سوڈانی اور چند الجزائری جنگجو شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرت سابق لیبیائی رہنما معمر قذافی کا آبائی شہر ہے

وہ کہتے ہیں: ’اس کے ساتھ ہی یہ بات کہ عراق اور شام سے جنگجو بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ عراقی جنگجوؤں میں زیادہ تر صدام حسین کی تحلیل کی گئی فوج کے فوجی شامل ہیں۔‘

اسماعیل شکری کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے سینیئر کمانڈروں نے عراق اور شام میں بین الاقوامی فضائی حملوں کے دباؤ کے پیش نظر لیبیا میں پناہ لے رکھی۔

وہ کہتے ہیں: ’دولت اسلامیہ کے ساتھ طویل وقت سے منسلک جنگجو لیبیا کو محفوظ سمجھتے ہیں اس لیے وہ یہاں پناہ لے رہے ہیں۔‘

دوسری جانب مصراتہ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ سرت میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں