شام کا تنازع: اقوام متحدہ نے جنیوا مذاکرات معطل کردیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا ہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

سٹفن ڈی مسٹورا نے اس تعطل کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے پہلے ہفتے میں پیش رفت میں فقدان دیکھا گیا ہے۔

مذاکرات کا آغاز دو روز قبل ہوا تھا تاہم ان کا دوبارہ آغاز 25 فروری کو ہوگا۔

مذاکرات کے حوالے سے ڈی مسٹورا نے تسلیم کیا کہ ’ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اختتام نہیں ہے اور نہ ہی مذاکرات کی ناکامی ہے؟‘

’کیوں؟ وہ آئے اور انھوں نے قیام کیا۔ دونوں اطراف نے اس حقیقت پر زور دیا کہ وہ سیاسی عمل کے آغاز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

یہ اعلان ایسے موقعے پر سامنے آیا ہے جب شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب مخالف کے زیر انتظام شہر حلب جانے والے ایک اہم سپلائی روٹ کو کاٹ دیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومتی فوجوں نے حلب کے شمال مغرب میں واقع نبل اور زھرا قصبوں کا محاصر توڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جبکہ صدر پسار الاسد کی افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ کےعلاوہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے باعث ایک کروڑ کے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں