دبئی کو کابینہ کےلیے طالب علم کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عرب آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لیے ’انھیں حکومت میں نمائندگی دینا منطعقی ہے: شیخ المکتوم

متحدہ عرب امارات میں دوبئی کے حکمران کابینہ میں نوجوانوں کی نمائندگی کے لیے دو نوجوان کو تلاش کر رہے ہیں۔

انھوں نے اس نئی ملازمت کے لیے نوجوان کی تلاش کا اعلان ٹویٹر پر کیا ہے۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے اس حوالے میں سے کئی پوسٹ کی ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں یونیورسٹیوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے دو طالب علموں کو نامزد کریں جو دو برسں کے تعلیم مکمل کر کے اپنے آخری تعلیمی سال میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں ایک مرد اور ایک خاتون طالب علم کو نامزد کریں۔

انھوں نے کہا کہ عرب آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لیے ’انھیں حکومت میں نمائندگی دینا اور آواز دینا منطقی ہے‘

کابینہ میں نوجوانوں کو شامل کرنے کے بارے میں ایک اشتہار متحدہ عرب امارات کابینہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔

اشتہار کے مطابق نوجوان 25 سال سے کم عمر ہو اور وہ نوجوانوں کے خواہشات کو بیان کر سکیں۔ شیخ المکتوم نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ نوجوانوں پرامید ہوں، اُن کے خواب ہو، مسائل اورچیلنجز بیان کریں۔ وہ ہمارے مستقبل کی امید ہیں۔‘

دبئی کے حکمران کی جانب سے یہ اعلان ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ ایک طالب علم نے مقامی روزنامے کو بتایا کہ ’کئی افراد ہمیں بہت کم عمر محسوس کرتے ہیں لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایسے اقدامات ملک کے لیے مفید ہیں۔‘

ایک شخص نے ٹویٹ کی کہ ’چیزیں اب ویسی نہیں ہیں جیسی ہوا کرتی تھیں۔ ہمیں تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئی تجاویز کی ضرورت ہے۔‘

حکومتی ذرائع ابلاغ کے علاوہ دوسرے ذرائع ابلاغ میں بھی اس حوالے سے کوئی منفی چیز سامنے نہیں ہے۔

ایک شخص نے ٹویٹ کی کہ ’متحدہ عرب امارات آگے بڑھ رہا ہے۔‘

اسی بارے میں