’اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں سے دولت اسلامیہ کمزور ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں

فرانس کا کہنا ہے کہ اتحادی افواج کے فضائی حملوں سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کمزور ہوئی ہے اور اب دولتِ اسلامیہ میں جنگ کوجیتنے یا پھر کسی علاقے پر قبضہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے۔

فرانس کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کے کمانڈر وائس ایڈمیرل رینیجین نے بی بی سی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر اتحادی افواج کی بمباری سے شدت پسند تنظیم کو بہت نقصان ہوا ہے اور وہ حملے کرنے کے بجائے اپنا دفاع کر رہے ہیں۔

فرانس نے گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فرانس کے بحری بیڑے سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر یومیہ اوسطً 20 حملے کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب سپین میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق کے شعبے میں سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ان افراد کو سپین کے شمالی علاقے اور ویلینسیا میں چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد عراق اور شام میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے معاونت فراہم کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام نے ساتویں مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں

پولیس کے مطابق ان افراد کے رہنما کو مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ یہ کہتی تھی کہ وہ عراق اور شام میں جنگجوؤں کے لیے خواتین کو بھجوائیں۔

حراست میں لیے گئے چار افراد سوڈان، مراکش اور شام سے تعلق رکھنے والے سپین کے شہری ہیں جبکہ باقی دو افراد کا شام اور مراکش کے شہری ہیں۔

حکام نے ساتویں مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

ان افراد کے کے بارے میں تحقیقات سنہ 2014 میں اُس وقت شروع ہوئیں تھیں جب سپین کے حکام نے اپنی سرزمین پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے نیٹ ورک کو ’دولتِ اسلامیہ کا غیر ملکی ڈھانچہ‘ قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گذشتہ سال شدت پسندوں کے حملوں کے بعد سپین، برسلز سمیت یورپی ممالک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں