بوسنیا میں حجاب پر پابندی کے خلاف خواتین کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بوسنیا کی 38 لاکھ آبادی میں سے 40 فیصد مسلمان ہیں

بوسنیا میں عدالتوں اور قانونی اداروں میں حجاب پہنے پر پابندی کے خلاف تقریباً دو ہزار خواتین دارالحکومت کی سڑکوں پر احتجاجاً مارچ کیا۔ حکام نے تمام مذہبی علامات کو ظاہر کرنے پر پابندی عائد کی ہے لیکن اس پابندی میں حجاب کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔

اتور کو ہونے والے مظاہرے میں شریک خواتین نے دارالحکومت سارا ژیوو میں ایک گھنٹے تک مارچ کیا۔

سنہ 1992 میں آزادی سے قبل بھی بوسنیا میں کیمونسٹ دور میں حجاب کرنے پر پابندی تھی اور اُس وقت بوسنیا یوگوسلاویہ کا حصہ تھا۔

حجاب پر پابندی کے خلاف مظاہرہ اُس وقت ہوا ہے کہ جب ملک میں عدالتی نظام کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ جوڈیشل کونسل نے عدالتوں میں ’مذہبی علامات‘ ظاہر کرنے والی چیزوں کے پہنے پر پابندی عائد کی ہے۔

مظاہرے میں شریک خواتین نے پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جس میں ’حجاب میرا حق ہے‘ کے نعرے درج تھے۔

مظاہرے کی منتظم سمیرا زیونک کا کہنا ہے کہ ’یہ پابندی مسلمانوں کے عزت، شناخت اور شخصیت پر حملہ ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد مسلمان خواتین کو ملازمتوں سے دور رکھنا ہے۔

بوسنیا کے مسلمان سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اس پابندی کی مذمت کی ہے۔

بوسنیا کی 38 لاکھ آبادی میں سے 40 فیصد مسلمان ہیں جبکہ باقی آبادی عیسائیت کے پیروکار ہے۔

اسی بارے میں