تائیوان: ملبے سے مزید دو زندہ برآمد، ہلاکتیں 34 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تائینان کے میئر نے کہا ہے کہ اگر عمارت تعمیر کرنے والوں نے قانون توڑا ہے تو انھیں اس کا حساب دینا ہوگا

تائیوان کے شہر تائینان میں دو روز قبل آنے والے زلزلے سے منہدم ہونے والی کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کے ملبے سے مزید دو افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔

ادھر حکام نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا منہدم ہونے والی عمارت کی تعمیر ناقص تو نہیں تھی جو وہ زلزلے کے جھٹکے نہ سہار سکی۔

سنیچر کی علی الصبح آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.4 تھیاور اس سے اب تک 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔

نکالے جانے والے افراد میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں تاہم عمارت کے ملبے تلے اب بھی 100 سے زیادہ افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تائینان سے رکن پارلیمان وانگ تنگ یو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ساؤ وی لنگ نامی خاتون کو جب پیر کی صبح نکالا گیا تو ہوش میں تھیں اور انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

امدادی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ عورت اپنے اپارٹمنٹ میں اپنے خاوند کی لاش کے نیچے دبی ہوئی تھی جبکہ ان کے دو سالہ بیٹے کی لاش بھی قریب ہی موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption حکام نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا منہدم ہونے والی عمارت کی تعمیر ناقص تو نہیں تھی

ہلاک ہونے والے بیشتر افراد اسی 17 منزلہ رہائشی عمارت میں موجود تھے جو زلزلے کے نتیجے میں گر گئی۔

اتوار کی شب تک عمارت کے ملبے سے 310 افراد کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 100 کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

امدادی کارروائیوں میں سینکڑوں فوجی اہلکار شامل ہیں اور انھیں جدید آلات اور سونگھنے والے کتوں کی مدد حاصل ہے۔

اتوار کو ہی جس شیرخوار بچی کو زلزلے کے 30 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ نکالا گیا تھا وہ ہسپتال میں دم توڑ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اتوار کی شب تک عمارت کے ملبے سے 310 افراد کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 100 کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے

تائینان کے میئر ولیئم لائی کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں زندہ بچنے والے افراد نے اس کی تعمیر میں قوانین کی ’خلاف ورزیوں‘ کی نشاندہی کی ہے تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ’جائے حادثہ سے ثبوت جمع کرنے کے لیے غیرجانبدار کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ اگر مستقبل میں عمارت کے رہائشی قانونی کارروائی میں دلچسپی لیں تو ان کی مدد کی جا سکے۔‘

میئر نے کہا کہ ’اگر عمارت تعمیر کرنے والوں نے قانون توڑا ہے تو انھیں اس کا حساب دینا ہوگا۔‘

اسی بارے میں