’گمشدہ طلبا کے معاملے میں سرکاری موقف مشکوک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھیں ملبے سے بچوں کے ڈی این اے کے شواہد نہیں ملے ہیں

میکسیکو کی جنوبی ریاست گوریرو سے 43 طلبا کی گمشدگی سے متعلق نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں حکومتی موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے فورینسک سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کوکولا نامی شہر کے باہر کوڑے کے ڈھیر سے جو باقیات ملی ہیں وہ غائب ہونے والے طلبا کے ڈی این اے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

میکسیکو کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان لاپتہ طلبا کو کوکولا میں ہلاک کیا گیا تھا اور پولیس نے جب انھیں ایک جرائم پیشہ گروپ کے حوالے کیا تو انھیں مار کر ان کی لاشیں جلا دی گئی تھیں۔

لیکن ایک سال کی طویل تحقیقات اور تفتیش کے بعد ارجنٹائن کی فورینسک اینتھروپولوجی ٹیم نے کہا ہے کہ انھیں اس مقام سے حیاتیاتی یا طبیعیاتی شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ سنہ 2014 میں غائب ہونے والے 43 طلبا کو جلایا گیا تھا اور ان کی باقیات وہاں دفنا دی گئی تھیں۔

تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہاں کئی بار آگ جلانے کے شواہد تو ہیں لیکن کوکولا سے باہر کھڈ میں جو ملبہ ہے وہ اتنا بڑا نہیں جس میں 43 لاشیں جلائی گئی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ارجنٹائن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہاں اتنا ملبہ نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہاں 43 طلبہ کو جلایا گیا تھا

انھوں نے کہا کہ انھیں 19 لوگوں کی ہڈیوں کی باقیات ملی ہیں لیکن ان کا تعلق غائب ہونے والے کسی طالبعلم سے نہیں۔

میکسیکو کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان طلبا کو 26 ستمبر سنہ 2014 میں آئگوالا قصبے سے 20 کلومیٹر دور میونسپل پولیس نےگرفتار کیا تھا۔

اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل جیسس موریلو کرم نے کہا تھا کہ ان کی جانچ میں یہ پتہ چلا تھا کہ پولیس نے ان طلبہ کو منشیات کی سمگلنگ کرنے والے کسی گینگ کے حوالے کر دیا تھا جس نے انھیں مار کر ان کی لاشیں ایک جگہ رکھ کر آگ لگا دی تھی۔

اس کے بعد اس گروہ نے مبینہ طور پر راکھ کو بوروں میں بھر کر پانی کے ایک چشمے میں بہا دیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے بوروں کی راکھ سے دو طلبا الیگزینڈر مورا اور جوسیوانی گوریرو کی شناخت کی ہے جس میں سے صرف پہلے طالبعلم کی ڈی این اے کے ذریعے پوری طرح شناخت ہو سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طلبہ کے والدین اور رشتے داروں کا مطالبہ ہے کہ چھاونیوں میں جانچ کی اجازت دی جائے

ارجنٹائن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب بورے ملے تھے تو وہ وہاں نہیں تھے اس لیے ان باقیات کی اصلیت کے بارے میں وثوق سے وہ کچھ نہیں کہ سکتے۔

اس نئی رپورٹ کے بعد میکسیکو کے اٹانی جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ 43 طلبا کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور حکام ایک ٹیم کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو ان دعووں کا تجزیہ کرے گی اور ان طلبا کے ساتھ کیا ہوا اس کے بارے میں نئے خطوط پر غور کرے گي۔

بچوں کے والدین فوجی چھاؤنی تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے مطابق وہاں ان کے بچوں کے بارے میں کوئی اشارہ مل سکتا ہے۔

حکومت نے طلبہ کی گمشدگی کے زمانے میں وہاں موجود کسی بھی فوجی سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی تھی۔

اسی بارے میں