صرف کنواری لڑکیوں کے لیے وظیفہ

Image caption میری تعلیم حاصل کرنے کا واحد ذریعہ صرف اپنے کنوارپن کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ میرے والدین میرے سکول کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے: ڈلوڈو

جنوبی افریقہ کے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی جانب سے خود کو کنواری ثابت کرنے پر وظیفے کی فراہمی کے منصوبے کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار نومسا ماسیکو نے تفصیلات سے مزید آگاہی کے لیے علاقے کا دورہ کیا۔

کوازولو نٹال کے گاؤں کی 19 سالہ رہائشی تھوبیلی ہلی ڈلوڈو اپنا گھر چھوڑنے کے حوالے سے گھبرائی ہوئی ہیں۔ ان کو وظیفہ مل گیا ہے لیکن یہاں ایک مشکل ہے: وہ وظیفے کی صرف اُسی وقت تک اہل ہیں، جب تک وہ اپنا کنوارپن برقرار رکھیں۔

اُن کا کہنا ہے: ’میری تعلیم حاصل کرنے کا واحد ذریعہ صرف اپنے کنوارپن کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ میرے والدین میرے سکول کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔‘

وظیفے کی وصولی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈلوڈو کو مسلسل کنوارپن کی جانچ سے گزرنا ہوگا۔ لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں یہ برا نہیں لگتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے اِس حصے میں کنوارپن کی جانچ معمول کی بات ہے اور زولو ثقافت میں لڑکیوں کے کنواری ہونے کی جانچ بوڑھی خواتین کرتی ہیں

’کنوارپن کی جانچ میرے رسم و رواج میں شامل ہے اور یہ میری ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ میں کنواری ہوں تو میں فخر محسوس کرتی ہوں۔‘

جنوبی افریقہ میں جنس کے لیے باہمی رضامندی کی عمر 16 سال ہے۔ البتہ نٹال صوبے میں اِس حوالے سے چھوٹ دی گئی ہے، جس میں 12 سال سے بڑے اور 16 سال سے کم عمر افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہے۔

قانون کی سخت تشریح کے بعد بھی ڈلوڈو رضا کی عمر سے دو سال بڑی ہیں، لیکن یہ صرف اُن کے تعلیمی مستقبل کے لیے ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے مہم چلانے والی پالیسا ماپا کا کہنا ہے کہ ’پریشان کن بات یہ ہے کہ اِن کی توجہ صرف کم عمر لڑکیوں پر ہے اور یہ تفریق ہے۔ یہ نوعمر حاملہ لڑکیوں اور ایچ آئی وی انفیکشن کی شرح کے مسائل کو حل نہیں کرے گا۔ صرف لڑکیوں ہی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘

کنواری لڑکیوں کے لیے یہ خاص وظیفہ متعارف کرانے والی بلدیہ کی میئر ڈوڈو مازیبوکو نے اِس بات سے اختلاف کیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ وظیفہ انعام نہیں ہے، بلکہ لڑکی کی زندگی میں عمر بھر کی سرمایہ کاری ہے۔‘

کونسل نے 100 سے زائد وظیفوں کا اعلان کیا ہے جس میں سے 16 کنواری لڑکیوں کو دیے جائیں گے۔

ثقافت اور روایات

ملک کے اِس حصے میں کنوارپن کی جانچ معمول کی بات ہے۔ زولو ثقافت میں لڑکیوں کے کنواری ہونے کی جانچ بوڑھی خواتین کرتی ہیں۔

کنوارے ہونے کی جانچ میں کامیاب ہونے والی لڑکیاں زولو کے بادشاہ گوڈوِل کے شاہی محل میں منعقد ہونے والے سالانہ رقص میں حصہ لیتی ہیں۔

یہ عمل جنوبی افریقہ کے قانون کے خلاف نہیں ہے لیکن اس کے لیے رضامندی شرط ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Sport
Image caption ’اِن لڑکیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں اور لڑکوں سے دور رہیں‘

سماجی کارکن ڈوڈو زوانی نے اس بات کو اپنا مِشن بنا لیا ہے کہ وہ لڑکیوں کو جنسی عمل سے پرہیز کرنے کی ترغیب دیں۔ پیار سے مائی ڈوڈو کے نام سے مشہور 58 سالہ یہ خاتون سکولوں میں درس دیتی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’اِن لڑکیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں اور لڑکوں سے دور رہیں۔‘

وہ ریٹائرڈ نرس ہیں جو نوجوان لڑکیوں کے کنوارپن کی جانچ بھی کرتی ہیں۔ اُنھوں نے اِس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اُن کا طریقہ کار سائنسی نہیں ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ لڑکی نے جنسی تعلق قائم نہیں کیا ہے، مخصوص علامات دیکھتی ہیں۔

کوازولو نٹال کے دیہی علاقوں میں کنوارپن کی خوشی منائی جاتی ہے اور یہ بات خاندان بھر کے لیے باعثِ فخر ہوتی ہے۔

ڈلوڈو کا کہنا ہے کہ اُن کی سہیلیاں بھی کنواری ہیں اور وہ اُن (ڈلوڈو) کو وظیفہ ملنے کی وجہ سے حسد کا شکار ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا کوئی مرد دوست نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو اِن حالات میں نہیں لانا چاہتیں، جہاں اُن پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ ’میں مثالی شخصیت بننا چاہتی ہوں۔‘

نوعمری کا حمل

کچھ افراد کنوارے پن کی جانچ کو نوعمری کے حمل، ایچ آئی وی اور ایڈز کی شرح میں اضافے کو روکنے کے لیے ہتھیار سمجھتے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں نوعمری کے حمل کی شرح عروج پر ہے۔ سنہ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق صرف دو سال میں نوعمری کے حمل کی تعداد 68 ہزار سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔

اسی بارے میں