ترکی کرد جنگجوؤں کی حمایت کرنے پر امریکہ سے ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے پی وائی ڈی پر انحصار کر رہا ہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکہ پر شام میں ایک کرد تنظیم کے حمایت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے واشنگٹن پر ’ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کے ارکان اور اس کی مسلح شاخ کو دہشت گرد تسلیم کرنے میں ناکام ہوتے ہوئے ’خون کا سمندر‘ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے پی وائی ڈی پر انحصار کر رہا ہے۔ کرد جنگجوؤں کی یہ تنظیم پی کے کے سے الگ ہوکر وجود میں آئی تھی۔

صدر اردوغان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان پر ترکی کی سرحد پر پھنسے 30 ہزار شامی شہریوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا دباؤ ہے۔

یہ پناہ گزین شام کے شمالی شہر حلب کے گرد و نواح میں حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان جاری جھڑپوں سے بچ کر ترکی کی سرحد پر پہنچے ہیں۔

فرانسیسی وزارت خارجہ لوراں فبیوس نے بھی بدھ کو شام میں امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ابہام نے تنازعے کے خاتمے میں ناکامی میں ناکامی میں کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایسا محسوس نہیں ہو رہا ہے کہ بہت پختہ عزم موجود ہے۔‘

اسی بارے میں