کرس کرسٹی صدارتی امیدوار کے انتخاب کی دوڑ سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرسٹ کرسٹی سرکاری وکیل رہ چکے ہیں اور وہ اپنے تیکھے اور جارحانہ انداز بیان کے لیے معروف ہیں

امریکی صدارتی امید وار کی انتخابی دوڑ میں شامل ریپبلکن پارٹی کے کرس کرسٹی نے نیو ہیمپشائر میں مایوس کن کارکردگی کے بعد صدارتی امیدواری کے مقابلے سے باہر ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ریاست نیوجرسی کےگورنر کرس کرسٹی نے نیو ہیمشائر میں زبردست مہم چلائی تھی اور اس پر کافی پیسہ خرچ کیا لیکن پھر بھی وہ چھٹے نمبر پر رہے تھے۔

بدھ کے روز محترمہ کارلی فیورنا نے آئیوا اور نیو ہیمپشائر میں ناکامیوں کے بعد اس مقابلے سے باہر ہونے کے اعلان کیا تھا اور کرسٹی ریپبلکن پارٹی کے ایسے دوسرے شخص ہیں جنہوں نے صدراتی امیدوار کے انتخاب سے باہر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے مہم کے دوران جن مباحثوں میں کرسٹی نے شرکت کی ان کی کافی تعریف ہوئی تھی اور ایک دوسرے ساتھی امیدوار مارکو روبیو کی رفتار پر لگام لگانے کا سہرا بھی انھیں کے سر ہے۔

کرسٹی کے باہر ہونے سے اوہائیو کے گورنر جان کیشی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو صدارتی امیدوار کے لیے انتخابی مہم میں شامل ہیں۔

بدھ کے روز کرسٹی نے اپنے ایک بیان میں ریپبلکن پارٹی کے سبقت لینے والے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف راست طور پر اشارہ کرتے ہوئے کہا ’صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے میں نے ہمیشہ انھی چیزوں پر زور دیا جس میں یقین رکھتا ہوں، اور جو ذہن میں ہو وہی بات کہنا، تجربے کی اہمیت ہے اور ہمارے ملک کی قیادت کے لیے ہمیشہ انھی کی ضرورت رہے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیوجرسی کےگورنر کرسٹ کرسٹی نے ہیمشائر میں زبردست مہم چلائی تھی اور اس پر کافی پیسہ خرچ کیا لیکن پھر بھی وہ چھٹے نمبر پر رہے تھے

کرس کرسٹی سرکاری وکیل رہ چکے ہیں اور وہ اپنے سخت اور جارحانہ انداز بیان کے لیے معروف ہیں۔ ان کی مہم کا اہم نعرہ ’جو ہے وہی بتاؤ‘ تھا۔

نیوجرسی روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ رہا ہے لیکن ریاست میں ریپبلکن پارٹی کے گورنر کی حیثیت سے کرسٹی کا کہنا تھا کہ ان کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن میں رہتے ہوئے وہ کیسے دونوں کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ماحولیات کی تبدیلی، امیگریشن اور ہم جنس پرستوں کے حقوق جیسے مسائل پر ان کا موقف دائیں بازو کے خیالات سے ہم آہنگ تھا جس سے ان کا شمار بھی پارٹی کے دیگر قدامت پرست حریفوں میں ہونے لگا۔

کرسٹی ٹرمپ کا مقابلہ نہ کر پائے جو اپنے متنازع بیانات کے سبب مہم کے دوران زبردست بھیڑ جمع کرنے میں کامیاب رہے اور درجہ بندی میں اب بھی سب سے آگے ہیں۔

اسی بارے میں