ایران میں جنسی ہراساں ہونے والی خواتین سامنے آ رہی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Sheena ShiraniFacebook

ایرانی ٹی وی کی ایک نیوز اینکر کی جانب سے دفتر میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات لگائے جانے کے بعد دیگر ایرانی خواتین نے بھی اپنی خاموشی توڑ دی ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس سے قبل ایران میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے موضوع کو اہمیت دیے جانے کی کوئی روایت نہیں ملتی۔

شینا شیرانی ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری نیوز چینل پریس ٹی وی پر خبریں پڑھتی تھیں، انھوں نے اپنے دو سینیئر مینیجروں کی جانب سے طویل عرصے سے جنسی ہراسانی کے واقعات کو منظر عام پر لا کر اس راویت کو توڑ دیا ہے۔

ان کے الزامات اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب انھوں نے فون پر ہونے والی ایک بات چیت کو آن لائن پوسٹ کر دیا جس میں ایک مرد جو ممکنہ طور پر ان کے باس حامد رضا عمادی ہیں، شیرانی سے جنسی فائدہ حاصل کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔

شیرانی نے اس واقعے کے بعد نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور ملک سے باہر چلی گئیں اور وہاں جا کر یہ آڈیو فائل آن لائن پوسٹ کر دی، جس کو اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد لوگ سن چکے ہیں۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر عمادی کی جانب سے بھیجے جانے والے ان پیغامات کی تصویر بھی ڈال دی ہے جس میں وہ ان سے یہ آڈیو فائل ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر عمادی کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ آڈیو فائل جھوٹی ہے۔

لیکن خلاف توقع پریس ٹی وی نے اعلان کر دیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک اس نے اپنے دو ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ خیال ہے کہ ان میں سے ایک عمادی ہیں جبکہ دوسرے شخص پر بھی شیرانی کی جانب سے جنسی ہراسانی کا الزام ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں پریس ٹی وی نےکہا ہے کہ ’حالانکہ اس آڈیو فائل کی صداقت کے بارے میں ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، لیکن چونکہ یہ واقعہ سنگین نوعیت کا ہے اس لیے متعلقہ حکام اس کی خصوصی طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آڈیو فائل ان لوگوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے جو ’اپنے سیاسی عزائم کی وجہ سے ایرانی نظام کے مخالف ہیں،‘ اور ساتھ ہی یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ کیس اس وقت مشکوک ہو جاتا ہے جب شیرانی یہ معاملہ متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کے بجائے آن لائن پوسٹ کرتی ہیں۔

اس کے جواب میں شیرانی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ جن سینیئر حکام کے پاس انھیں شکایت لے کر جانی تھی وہ خود اس کیس میں ملوث تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

شیرانی نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران جیسے معاشروں میں اگر آپ کی طاقت ور افراد سے دوستی نہیں ہے تو آپ کمزور ہیں اور آپ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، اور اگر آپ عورت ہیں اور اپنے بچے کی اکیلے کفالت کر رہی ہیں تو پھر آپ کو معاشرے میں کوئی باعزت مقام نہیں مل سکتا۔‘

شیرانی نے بتایا کہ جنسی ہراسانی کے علاوہ انھیں کئی اور طریقوں سے بھی ہراساں کیا جاتا رہا ہے، جس میں کچھ منٹ دیر سے دفتر آنے اور سرکاری اداروں میں خواتین کے لیے مخصوص لباس کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے معلوم تھا کہ وہاں مجھے ایک نیوز ریڈر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک جنسی شے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔‘

شیرانی کے اس طرح کھل کر اظہار کرنے سے ایران جیسے ملک میں بھی دفاتر میں جنسی ہراسانی کے موضوع پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر شیرانی کے اس اقدام کی حمایت کی جارہی ہے۔

شیرانی کی دیکھا دیکھی بہت سی دیگر خواتین نے بھی اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ایک خاتون نے لکھا ہے کہ ’ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں جاکر ہم تکلیف دینے والی ان گندی نظروں اور گندے الفاظ کی شکایت کر سکیں۔ بلکہ اگر شکایت کی بھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ یہ آپ ہی کی غلطی تھی کہ آپ ان مردوں کے ساتھ بے تکلف ہوئیں، بناؤ سنگھار اور خوشبو کا استعمال کرتی رہیں، اور مسکراتی رہیں۔‘

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ ان کی ایک ساتھی خاتون نے دفترمیں مستقل ہراساں کیےجانے کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔

کچھ لوگوں نے اس واقعے کا ذمہ دار ایرانی معاشرے کی قدامت پرست روایت کو ٹھہرایا ہے جس میں عورت کی کوئی عزت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FacebookSheena Shirani

ایک فیس بک صارف نے لکھا ہے کہ ’ایسے گھٹے ہوئے معاشرے میں جہاں مذہبی جانب داری بھی ایک مسئلہ ہو وہاں اس طرح کے واقعات جنم لیتے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ ’ہمیں اپنے لڑکوں کی پرورش کرتے وقت ان کو عورت کی عزت کی اہمیت بھی بتانی چاہیے۔ ہماری خواتین سڑک پر چلتے وقت محفوظ نہیں، دفاتر تو دور کی بات ہیں۔‘

لیکن اپنے تکلیف دہ تجربات شیئر کرنے والوں کے علاوہ ایک تعداد ان لوگوں کی بھی جنھوں نے جنسی ہراس کے واقعات میں خواتین پر ہی ان کے ’ناموزوں چال چلن‘ کا الزام لگایا ہے۔

ایک خاتون نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ شیرانی کی جانب سے پوسٹ کی گئی یہ آڈیو ایک عورت کے ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس کی چالاکی کو ظاہر کرتی ہے۔‘

ان خاتون نے مزید لکھا ہے کہ شیرانی نےضرور اپنے مینیجر کو کوئی ایسا اشارہ دیا ہوگا جس کی وجہ سے اس کی یہ ہمت ہوئی۔

ایک اور پوسٹ میں لکھاگیا ہے کہ '’یہ خواتین طاقت اور دولت حاصل کرنے کی لیے کس بھی حد تک جا سکتی ہیں لیکن آخر میں خود ہی اپنی چال کا شکار ہو جاتی ہیں۔‘

اس کے جواب میں فیس بک پر یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’یہ بہت شرم کی بات ہے کہ اس طرح کے واقعات میں کچھ لوگ ابھی بھی خواتین کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔‘

شیرانی 2007 سے پریس ٹی وی میں کام کر رہی تھیں۔ ان کی اپنے شوہر سے طلاق ہو چکی ہے جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔

اسی بارے میں