تارکین وطن کا بحران: بحیرۂ ایجیئن میں نیٹو جہازوں کی تعیناتی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ’مہاجرین کی کشتیوں کو روکنے یا واپس دھکیلنے‘ کے بارے میں نہیں ہے

نیٹو کے سربراہ یینس سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ تارکین وطن کو ترکی سے یونان پہنچانے والے انسانی سمگلروں کو روکنے کے لیے بحیرۂ ایجیئن میں نیٹو کے بحری جہاز تعینات کیے جائیں گے۔

یہ اعلان برسلز میں ترکی، جرمنی اور یونان کے وزرائے دفاع کی جانب سے کیے گئے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ’مہاجرین کی کشتیوں کو روکنے یا واپس دھکیلنے‘ کے بارے میں نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیٹو ’انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے اہم معلومات اور نگرانی کے کام میں‘ کردار ادا کرے گا۔

امریکی سیکریٹری دفاع ایشٹن کارٹر نے اس سے قبل کہا تھا کہ مجرمانہ تنظیمیں جو غریب لوگوں کا استحصال کر رہی ہیں، ان کو نشانہ بنانے کا انتہائی انسان دوست اثر ہو گا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل سٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ترکی اور یونان کو ’اس انسانی المیے سے ہم سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد کے لیے کیا گیا ہے۔‘

نیٹو کا سٹینڈنگ میری ٹائم گروپ ٹو یونان اور ترکی کے کوسٹ گارڈز کے ساتھ تعاون سے یہ آپریشن سرانجام دے گا۔ خیال رہے کہ سٹینڈنگ میری ٹائم گروپ ٹو جرمنی کے زیرانتظام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رواں سال بحیرۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں 409 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق سنہ 2016 میں تقریباً 75 ہزار تارکین وطن اور پناہ گزین سمندر کے راستے یونان پہنچے ہیں۔

دوسری جانب ترکی میں دو انسانی سمگروں پر ایلان کردی اور دیگر چار افراد کی موت پر مقدمہ کیا گیا ہے۔

ایلان کردی تین سالہ شامی بچے تھے جن کی یونان کے ساحل پر مردہ حالت میں لی گئی تصویر نے تارکین وطن کے بحران کے حوالے سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا کہنا ہے کہ رواں سال بحیرۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں 409 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں