امریکی سینیٹ کی شمالی کوریا کے خلاف سخت پابندیوں کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ہفتے شمالی کوریا کے راکٹ تجربے کے بعد شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

شمالی کوریا کے حالیہ راکٹ کے تجربے کے بعد امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

امریکی کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کا اطلاق اُن افراد پر ہو گا جو پیانا یانگ کو اسلحہ فراہم کرتے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اس سے قبل جنوبی کوریا کے ملازمین نے کیسونگ صنعتی پارک سے اخراج شروع کر دیا ہے۔ یہ صنعتی پارک دونوں کوریائی ممالک کی اشتراک سے کام کرتا ہے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کیسونگ صنعتی پارک سے حاصل ہونے والی آمدن ’ میزائل پروگرام‘ پر خرچ کر رہا ہے۔کیسونگ صنعتی پارک سے حاصل ہونے والی آمدن شمالی کوریا کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

امریکی سینیٹ سے منظور ہونے والی پابندیوں میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تجارت یا اُس کے لیے مالی معاونت فراہم کریں، شمالی کوریا کے راکٹ پروگرام سے وابستہ ہوں، اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوں۔

امریکی کی نئی پابندیوں کا اطلاق منیشات کے اسمگلروں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں، پر تعیش اشیا درآمد کرنے والوں اور امریکہ کے سائبر سکیورٹی کو نقصان پہنچانے والوں پر بھی ہو گا۔

امریکہ نے پہلے ہی ان تمام چیزوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن نئے قانون کے تحت پابندیوں کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت امریکہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کے بارے میں 5 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ریڈیو نشریات شروع کر سکتا ہے۔

اس سے پہلے بھی امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسی طرح کے ایک قانون کی منظوری دی تھی اور اب ان دونوں قوانین کو ملا کر ایک مسودہ بنایا جائے گا۔ جس پر صدر اوباما دستخط کریں گے۔

امریکی کانگریس جنوری میں شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد ہی سے پابندیاں سخت کرنے پر غور کر رہی تھی لیکن گذشتہ ہفتے شمالی کوریا کے راکٹ تجربے کے بعد شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

جاپان نے شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت کی ہیں لیکن شمالی کوریا کا سب سے اہم تجارتی ملک چین اُس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

اسی بارے میں