کتب فروشوں کا اغوا معاہدے کی خلاف ورزی ہے: برطانیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بو لی کا شمار اُن پانچ ناشرین میں ہوتا ہے جو حالیہ مہینوں کے دوران اچانک غائب ہوگئے تھے

برطانیہ نے ہانگ کانگ کے کُتب فروشوں کے اغوا کو اُس معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے جس کے تحت ہانگ کانگ کو برطانیہ نے دوبارہ چین کے حوالے کیا تھا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کے مطابق کُتب فروش لی بُو برطانوی شہری ہیں اور ’اُن کُتب فروشوں کو اُن کی صوابدید کے بغیر ہانگ کانگ کے قانون کے مطابق بغیر کسی طے شدہ عمل کے غائب کیا گیا ہے۔‘

لی کا شمار اُن پانچ ناشروں میں ہوتا ہے جو حالیہ مہینوں کے دوران اچانک غائب ہوگئے تھے۔

سنہ 1984 میں چین اور برطانیہ کے مشترکہ اعلامیے میں چین نے ہانگ کانگ کی آزادی کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ہیمنڈ نے اِن خیالات کا اظہار ہانگ کانگ کے امور کے حوالے سے برطانوی دفترِ خارجہ کی حالیہ رپورٹ میں کیا ہے، جس کو سیکریٹری خارجہ ہر چھ ماہ بعد پارلیمان میں جمع کراتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیمنڈ نے اِن خیالات کا اظہار ہانگ کانگ کے امور کے حوالے سے برطانوی دفترِ خارجہ کی حالیہ رپورٹ میں کیا ہے

لی دسمبر میں غائب ہوئے تھے۔ وہ مائیٹی کرنٹ نامی ایک چھاپہ خانے کے حصہ دار ہیں۔ یہ چھاپہ خانہ سینیئر چینی رہنماؤں کے متعلق تنقیدی کتابیں چھاپنے کے حوالے سے مہارت رکھتا ہے۔ وہ ٹائٹل فروخت کرنے والی کازوے بے نامی بُکس شاپ سے بھی منسلک ہیں۔

کُتب فروشوں کی گمشدگی ہانگ کانگ میں خاصی تشویش کا باعث بن چکی ہے کیوں کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں سزا دینے کے لیے چین لے جایا گیا ہے۔

لی نے مبینہ طور پر اپنے خاندان کو ایک خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ کچھ خاص کاموں کے لیے رضاکارانہ طور پر چین گئے ہیں۔ تاہم انھوں نے اُن کاموں کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی۔

ایک اور لاپتہ کُتب فروش گوئی میہائے نے چین کے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ انھوں نے ڈرائیونگ کے دوران شراب پینے کے ایک پُرانے جُرم کے سلسلے میں خود کو حکام کے حوالے کیا ہے۔

اسی بارے میں