امریکی سپریم کورٹ لبرل یا قدامت پسند؟

Image caption جسٹس اینٹونن سکیلیا کے انتقال کے بعد لوگ سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر دعائیں مانگ رہے ہیں

امریکی سپریم کورٹ کےسب سے زیادہ قدامت پسند جج، جسٹس اینٹونن سکالیا کے انتقال کے بعد ان کی جگہ نئے جسٹس کی تعیناتی کے عمل پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ جسٹس سکالیا کی جگہ نئے جج کی نامزدگی وہ خود کریں گے لیکن رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوروں کی دوڑ میں شامل رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ نئے جج کی تقرری کا معاملہ صدارتی انتخابات تک مؤخر کر دیا جائے۔

امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند جسٹس اینٹونن انتقال کر گئے۔

جسٹس سکالیا کے انتقال سے قبل امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ میں قدامت پسند ججوں کو پانچ چار کی برتری حاصل تھی اور اس برتری کے طفیل سپریم کورٹ اب تک موسمیاتی تبدیلی اور تارکین وطن کی امریکہ میں آمد کے معاملات پر اوباما انتظامیہ کی کوششوں کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔

اب جبکہ سپریم کورٹ میں آزاد خیال (لبرل) اور قدامت پسند ججوں کا تناسب چار چار ہو گیا ہے تو لگتا ہے کہ امریکہ میں آئینی اور قومی معالات پر فیصلہ سازی کے مجاز سب سے بڑے ادارے میں اعتدال پسندوں یا قدامت پسندوں کی برتری کے معاملے پر اتنی ہی لے دے ہو گی جتنی صدارتی انتخابات پر ہو رہی ہے۔

Image caption جسٹس سکلیلیا کو سابق صدر رونلڈ ریگن نے تعینات کیا تھا

جسٹس سکالیا 79 سال کے تھے اور ان کو سابق صدر رونلڈ ریگن نے سنہ 1986 میں سپریم کورٹ کا جج تعینقات کیا تھا۔جسٹس سکالیا سنیچر کی صبح حالتِ نیند میں انتقال کر گئے تھے۔

اس موقع پر صدر اوباما کا کہنا تھا کہ تقریباً 30 سال سے سپریم کورٹ کے بینچ پر جسٹس سکالیا کی موجودگی ایک بہت بڑی شخصیت کی موجودگی سے کم نہیں تھی۔

صدر کے بقول جسٹس سکالیا ’ایک غیر معمولی قانونی مفکر‘ اور’ چیر دینے والی حاضر دماغی‘ کے مالک تھے۔

صدر اوباما کی ڈیوموکریٹک پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کا خیال ہے کہ جسٹس سکالیا کی جگہ نیا جج جلد از جلد مقرر کیا جانا چاہیے۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ ہمارے جذبات اور دعائیں آج رات اسکالیا خاندان کے ساتھ ہیں، تاہم میں اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچ رہی ہوں اور دعا کررہی ہوں، مگر ریپبلکنز کی جانب سے نئے جج کی نامزدگی کا راستہ روکنے کی باتیں اشتعال انگیز ہیں۔‘

Image caption تازہ ترین صدارتی مناظرے سے پہلے تمام امیدواروں نے جسٹس سکیلیا کی یاد میں تعزیتی خاموشی اختیار کی

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے نئے جسٹس کی نامزدگی کے لیے ضروری ہے کہ امریکی سینیٹ بھی اس کی توثیق کرے، تاہم موجودہ سینٹ میں رپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ سینیٹ نئے جج کی نامزدگی کی توسیع نہ کرے اور یوں یہ معاملہ آئندہ صدارتی انتخابات تک لٹک جائے۔

ادھر رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں اکثریت کے رہنما مِچ میک کونیل سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اوبامہ نیا جج نامزد نہ کر سکیں۔

Image caption جسٹس سکلیلیا (بائیں سے دوسرے) کی موجودگی سے سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کو پانچ چار کی برتری حاصل رہی ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں صدر اوباما نئے جج کی نامزدگی جلد ہی کر دیں گے ’چاہے میں اس سے مطمئن ہوں یا نہیں۔ اب یہ مِچ میک کونیل اور دوسروں پر ہے کہ وہ اِسے روکیں۔ اور اس میں تاخیر کریں، تاخیر کریں، تاخیر کریں۔‘

یاد رہے کہ آئینی طور پر امریکی سپریم کورٹ کے جج کی تقرری کا اختیار صدر کے پاس ہوتا ہے اور سپریم کورٹ کیب ججوں کی تقرری تاحیات ہوتی ہے۔

جسٹس اینٹونن سکالیا کا شمار ان جسٹس صاحبان میں ہوتا تھا جن کا خیال تھا کہ امریکی آئین کا مفہوم وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہو سکتا اور انھوں نے اپنے پورے کریئر میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی مخالفت کی تھی۔