پوپ کے ایک خاتون سےقریبی تعلقات تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Photograph provided by Bill and Jadwiga Smith
Image caption کارڈینل کارول وجتیا اور تیمینیسکا کی 1978 کی ایک تصویر

بی بی سی نے ایسے سینکڑوں خطوط اور تصاویر دیکھی ہیں جس سے پوپ جان پال دوم کے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ قریبی تعلقات کی کہانی پر سے پردہ اُٹھتا ہے۔

دونوں کے درمیان یہ تعلق 30 سال سے زائد عرصہ قائم رہا۔

پولینڈ نژاد امریکی فلسفی خاتون انا ٹریسا تیمینیسکا کو لکھے گئے خطوط کئی برسوں تک عوام کی نظروں سے دور پولینڈ کی قومی لائبریری میں بند تھے۔

اِن دستاویزات کے ذریعے سنہ 2005 میں دنیا سے رخصت ہونے والے پوپ کی زندگی کے ایک مخفی پہلو سے پردہ اُٹھتا ہے۔ تاہم اِس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پوپ نے اپنے کنوارپن کا عہد توڑا ہو۔

اِس دوستی کا آغاز سنہ 1973 میں اُس وقت ہوا تھا جب تیمینیسکا نے مستقبل کے پوپ کارڈینل کارول وجتیا سے اُن کی فلسفے پر تحریر کردہ ایک کتاب کے سلسلے میں رابطہ کیا، جس کے بعد 50 سالہ خاتون نے کام کے بارے میں گفتگو کے لیے امریکہ سے پولینڈ کا سفر کیا۔

اِس کے فوراً بعد دونوں کے درمیان خط و کتابت کا آغاز ہو گیا۔ کارڈینل کی جانب سے لکھا گیا پہلا خط رسمی تھا، لیکن جیسے جیسے دونوں کی دوستی مضبوط ہوتی گئی، اِن میں بے تکلفی بڑھتی چلی گئی۔

دونوں نے کارڈینل کی تحریر کردہ کتاب میں اضافے کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس کے بعد کبھی سیکریٹری کی موجودگی میں، اور کبھی اکیلے ہی دونوں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں، اور پھر خط و کتابت کا سلسلہ چل نکلا۔

سنہ 1974 میں اُنھوں نے لکھا کہ وہ تیمینیسکا کی جانب سے ایک مہینے میں لکھے گئے چار خطوط دوبارہ سے پڑھ رہے ہیں، کیونکہ اُن میں ’خاصی بامعنی اور گہری باتیں‘ لکھی گئی ہیں۔

ایسی تصاویر سے، جو عوام نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کارول وجتیا کافی پُرسکون ہیں۔ اُنھوں نے تیمینیسکا کو ملک کی سیر کرنے اور چھٹیوں میں سکیئنگ پر آنے کی دعوت دی تھی اور یہاں تک کہ وہ اُن کے ساتھ آئی بھی تھیں۔ تصاویر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ اُن سے ملاقات کے لیے ویٹیکن بھی آئی تھیں۔

کیمبرج یونیورسٹی میں عیسائیت کی تاریخ کے پروفیسر ایمن ڈفی کا کہنا ہے کہ ’20ویں صدی میں عوامی زندگی کی عظیم مذہبی شخصیات میں سے ایک یعنی کیتھولک چرچ کے سربراہ کے ایک دِلکش خاتون کے ساتھ بے حد قریبی تعلقات تھے۔‘

سنہ 1976 میں کارڈینل کیتھولک کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ گئے تھے۔ اسی دوران تیمینیسکا نے اُن کو نیو انگلینڈ کے علاقے کنٹری ہوم میں واقع اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہنے کی دعوت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ The scapular given to Ms Tymieniecka
Image caption کارڈینل نے تیمینیسکا کو اپنی سب سے قیمتی چیز کا تحفہ دیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا مذہبی ہار تھا

اُنھوں نے پوپ کے بارے میں اپنے شدید جذبات کا اظہار بھی کیا تھا، کیونکہ اُس کے فوراً بعد پوپ کی جانب سے لکھے گئے خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص عیسائی اقدار کی روشنی میں دوستی کے جذبات کو واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ستمبر سنہ 1976 میں لکھے گئے ایک خط میں پوپ نے لکھا: ’میری پیاری ٹیریسا، مجھے تینوں خط مل گئے ہیں۔ تم نے پریشانی کے بارے میں لکھا ہے لیکن مجھے اِن الفاظ کا کوئی جواب نہیں مل سکا۔‘

اُنھوں نے تیمینیسکا کو ’خدا کی طرف سے تحفہ‘ قرار دیا۔

بی بی سی کو تیمینیسکا کی جانب سے لکھے گئے خطوط دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اِن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ اُن خطوط کی نقول ہیں جس میں محفوظ کردہ دستاویزات بھی شامل ہیں، جو سنہ 2008 میں تیمینیسکا نے پولینڈ کی قومی لائبریری کو فروخت کر دی تھیں۔

پولینڈ کی قومی لائبریری نے تیمینیسکا کے خطوط کی اپنے ریکارڈ میں ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مارشا مالینوکسی نادر قلمی دستاویزات کی بیوپاری ہیں اور اُنھوں نے اِن خطوط کی فروخت میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اُن کا خیال ہے کہ تعلقات کے ابتدائی ایّام ہی میں تیمینیسکا کارڈینل کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ اِس کی جھلک اُن کی خط و کتابت میں بھی نظر آتی ہے۔‘

خطوط سے اِس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کارڈینل نے تیمینیسکا کو اپنی سب سے قیمتی چیز کا تحفہ دیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا مذہبی ہار تھا جو کاندھوں پر پہنا جاتا ہے اور یہ سکیپولر کہلاتا ہے۔

دس ستمبر سنہ 1976 کو لکھے گئے ایک خط میں اُنھوں نے لکھا ہے کہ ’گذشتہ سال میں اِن الفاظ ’میں تم سے ہوں‘ کا جواب تلاش کر رہا تھا، اور آخر کار پولینڈ چھوڑنے سے میں نے ایک راستہ ڈھونڈ لیا اور وہ سکیپولر تھا۔ وہ راہ جس میں، میں نے تمھیں قبول کیا اور ہر طرح کے حالات میں، جب تم پاس تھیں اور جب دور تھیں، ہر جگہ تم کو محسوس کیا۔‘

پوپ بننے کے بعد اُنھوں نے لکھا: ’میں یہ خط تقریب کے بعد لکھ رہا ہوں، تو ہمارے درمیان خط و کتابت جاری رہنی چاہیے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی کے نئے سفر میں ہر چیز یاد رکھوں گا۔‘

کارڈینل کی ماہر نفسیات وانڈا پولتواسکا سمیت کئی دیگر خواتین سے دوستی تھی، اور وانڈا کے ساتھ بھی کئی دہائیوں تک اُن کی خط و کتابت جاری رہی۔

لیکن تیمینیسکا کو لکھے گئے اُن کے خطوط شدید جذباتی، کبھی کبھار اُن سے رشتے کے مطلب کے ساتھ لڑتے ہوئے تھے۔ پوپ جان پال دوم اپنے 27 سالہ دور کے بعد سنہ 2005 میں دنیا سے رُخصت ہو گئے تھے۔ سنہ 2014 میں اُنھیں سینٹ قرار دیا گیا تھا۔

سینٹ قرار پانے کا عمل کافی طویل اور مہنگا ہے، لیکن جان پال دوم بہت جلد یعنی صرف نو برس میں سینٹ بن گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Photograph provided by Bill and Jadwiga Smith
Image caption پوپ جان پال دوم کی ویٹیکن میں تیمنیسکا سے ملاقات

عام طور پر ویٹیکن سینٹ قرار دینے کے لیے ساری نجی اور سرکاری تحریریں دیکھنے کا کہتا ہے، لیکن بی بی سی کو اِس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا اِن خطوط کو دیکھا گیا تھا کہ نہیں۔

سینٹ کی ماخذ انجمن کا کہنا ہے کہ یہ کیتھولک پادریوں کا انفرادی فیصلہ ہوتا ہے کہ کونسی دستاویزات بھیجی جائیں۔

اُنھوں نے ایک بیان میں بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اپنے سارے کام مکمل کیے۔ تمام نجی دستاویزات جو فرمان کے جواب میں قابل اعتماد لوگوں کی جانب سے بھیجی گئیں، اور وہ دستاویزات جو اہم محافظ خانوں سے ملیں، اُنھیں پڑھا گیا تھا۔‘

پولینڈ کی قومی لائبریری نے دلیل دی ہے کہ یہ ایک منفرد رشتہ تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ اُن دوستیوں میں سے ایک ہے جو پوپ نے اپنی زندگی میں نبھائی ہیں۔

اسی بارے میں