بحرین میں چار امریکی صحافی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حراست میں لیے جانے والے چار امریکی صحافیوں میں سے ایک کی شناخت آنا تھیریسی ڈے کے نام سے ہوئی ہے

بحرین میں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں چار امریکی صحافیوں کو گرفتار کیاگیا ہے۔

ان میں ایک رپورٹر کی شناخت آنا تھیریسی ڈے کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر تین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے عملے کے ارکان ہیں۔

آنا تھیریسی کے خاندان والوں نے حکومت کی جانب سے لگائےگئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابھی کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے ہیں۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان چار امریکی صحافیوں کو شیعہ اکثریتی علاقے سترا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں اکثر حکومت مخالف مظاہرے دیکھے جاتے ہیں۔

بیان کے مطابق چاروں صحافی بحرین میں 11 اور 12 فروری کے درمیان داخل ہوئے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’گرفتار ہونے والوں میں سے کچھ غیر ملکی میڈیا کے ارکان کے طور پر ملک میں موجود تھے لیکن وہ متعلقہ حکام کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھے، اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حراست میں لیے جانے والوں میں سے ایک چہرے پر نقاب پہنے سترا میں دیگر فساد پھیلانے والوں کے ساتھ پولیس پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھا، جبکہ دیگر تینوں کو اسی علاقے میں سکیورٹی چیک پوسٹ سے گرفتار کیا گیا۔‘

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ’تھیریسی ڈے کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے ان چاروں کی فوراً رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کو حراست میں لیے جانے کو ناقابل معافی قرار دیا ہے۔‘

تھیریسی کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں اور انھیں بحرین، اسرائیل، لیبیا، شام اور کئی دیگر ممالک میں صحافت کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔

اسی بارے میں