چار ممالک کا تیل کی پیداوار نہ بڑھانےپر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب قیمتوں کے تعین سے زیادہ مارکیٹ میں اپنے حصص محفوظ رکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے

تیل پیدا کرنےوالے چار ممالک سعودی عرب، قطر، وینزویلا اور روس نے تیل کی پیداوار کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اعلان چاروں ممالک کے وزرا کی دوحہ میں ملاقات کے بعد کیا گیا۔

یہ فیصلہ تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو حالیہ مہینوں میں تیزی سے گری ہیں۔

تیل کی قیمتیں سنہ 2014 میں 116 ڈالر فی بیرل کی بلندی پر پہنچنے کے بعد گری ہیں اور ان میں ستر فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

تیل کی قمتیوں میں اس تیزی سے کمی رسد میں اضافہ، طلب میں کمی اور بین الاقوامی معاشی حالات کی وجہ سے ہوا ہے۔

اس اقدام سے حالیہ دنوں کے مقابلے میں تیل کی قیمتوں میں تو استحکام آ جائے گا لیکن ماضی کے مقابلے میں اس کا منافع کم ہی رہے گا۔

سعودی عرب کے تیل کے وزیر علی النعیمی کا کہنا تھا کہ ’جنوری کی سطح کے پر تیل کی پیداوار کو برقرار رکھنا مارکیٹ کے لیے کافی ہوگا۔ ہم قیمتوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے لیکن چاہتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں طلب کے مطابق اور مستحکم رہیں۔‘

برنٹ خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ ہوا لیکن پھر ان میں 0.76 فیصد کی کمی واقع ہو گی اور یہ 33.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئیں جب کہ امریکی خام میں 0.3 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 29.85 فیصد پر رہیں۔

ایران پر مغرب طاقتوں کی طرف سے عائد پابندیوں کے اٹھ جانے کے بعد سے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

عراق نے منگل کو جنوری کے مہینے میں کل ملکی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کیے جن سے معلوم ہوا کہ نیم خودمختار کرد علاقوں سمیت ملک کے تمام کنوؤں سے اوسطً چار کروڑ ستر لاکھ بیرل یومیہ کے حساب سے تیل نکالا گیا۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق عراق تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں دوسرا بڑا ملک ہے۔

بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کا موقف تبدیل ہوا ہو گا، خاص طور پر سعودی عرب کا جو امریکی شیل تیل کے مقابلے میں تیل کی قیمتوں سے زیادہ عالمی مارکیٹ میں اپنے حصہ کو بچانے کے بارے میں پرعزم تھا۔

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم کی مہنگا تیل پیدا کرنے والوں کو مارکیٹ سے باہر کرنے کی حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

سٹی انڈیکس کے تجزیہ کار فواد رزاق زادہ کا کہنا ہے کہ اس اعلان نے مارکیٹ کو مایوس کیا ہے کیونکہ توقع کی جا رہی تھی کے پیداوار کو موجودہ سطح برقرار رکھنے کے بجائے اس میں کمی کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا ’مختصر عرصے کے لیے تیل کی قیمتیں دباؤ میں آئیں گی۔ بہرحال یہ صحیح جانب ایک قدم ہے اور اگر تیل پیدا کرنے والے دیگر بڑے ممالک بھی اسی راستے پر چلیں تو یہ تیل کی قیمتوں کو مزید گرنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو گی۔

وینزویلا کے وزیرِ تیل نے حالیہ ہفتوں میں تیل کی پیداوار روکنے کے حوالے سے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کا دورہ کیا تاکہ انھیں تیل کی قیمتیں مستحکم کرنے کے لیے قائل کیا جا سکے۔

انھوں نے بدھ کو تہران جا کر ایرانی اور عراقی وزرا سے اسی بارے میں ملنے کا بھی عندیہ دیا۔

پیٹرومیکس سٹرٹیجی کے اولیور جیکب نے کہا کہ نومبر 2014 کے بعد سے یہ طلب اور رسد کے بارے میں پہلا فیصلہ ہے گو کہ کچھ لوگ اس سے مایوس ہوں گے اور کہیں گے کہ یہ پیداوار کم کرنے کے بارے میں نہیں ہے لیکن یہ ایک تبدیلی ہے اور یہ پالیسی کی بڑی تبدیلی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چاہ ماہ میں اپنی پیداوار اور تیل کی برآمد کو دس لاکھ بیرل یومیہ پر لے جانا چاہتا ہے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی نے ایران کے تیل کے وزیر رکن الدین جاویدی کے حوالے سے کہا کہ ایران نے اپنی پیداوار 40 ہزار بیرل یومیہ کر لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس پیداوار میں 20ہزار بیرل یومیہ کا مزید اضافہ ہو جائے گا۔

گذشتہ ماہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران نے ہفتے کے آغاز پر ہی یورپ کو تیل کی فراہمی شروع کی ہے۔

اسی بارے میں