’شمالی کوریا کے جوہری عزائم کا نتیجہ صرف حکومت کا زوال‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر پارک نے شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت اور کارگر اقدامات کرنے کا اعلان کیا

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیؤن ہائی نے ہمسایہ ملک شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنا جوہری پروگرام بند نہیں کرتا تو صرف تباہی ہی اس کا مقدر ہوگی۔

منگل کو دارالحکومت سیئول میں پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے صدر پارک نے کہا کہ شمالی کوریا کو اس حقیقت کا ادارک کروانا لازمی ہے کہ اس کے جوہری عزائم کا نتیجہ صرف ’حکومت کے زوال‘ کے عمل میں تیزی کی شکل میں نکلے گا۔

خطاب میں جنوبی کوریا کی صدر نے شمالی کوریا کے اشتراک سے چلنے والے کائسونگ صنعتی پارک کی بندش کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے اور ان کا ملک مزید ’سخت اور کارگر‘ اقدامات کرے گا۔

سیئول میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو ایونز کے مطابق اگرچہ صدر پارک نے مزید پابندیوں کی تفصیل نہیں بتائی لیکن ممکنہ طور پر جنوبی کوریا ایسے بحری جہازوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی لگا سکتا ہے جو شمالی کوریا کی کسی بندرگاہ سے ہو کر آ رہے ہوں۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں جنوبی کوریا کے مندوب نے سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے راکٹ کے تجربے کے بعد اس کے خلاف مجوزہ پابندیوں کی منظوری دے۔

قومی سلامتی کے امور کے لیے امریکی صدر کی مشیر سوزن رائس نے بھی کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ چین سخت پابندیوں کی حمایت کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا سیٹلائٹ بھیجنے کے پیچھے اصل مقصد بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنا تھا

کیلیفورنیا میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین نہیں چاہے گا کہ شمالی کوریا کے حالیہ جارحانہ رویے کے بعد اسے شمالی کوریا کے محافظ کے طور پر دیکھا جائے۔

امریکی سینیٹ نے شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ راکٹ تجربے کے بعد متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کی منظوری دی ہے لیکن شمالی کوریا کا سب سے اہم تجارتی اتحادی چین اُس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نےرواں سال چھ جنوری کو اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا جس پر اسے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ہائیڈروجن بم کے اس تجربے کے بعد رواں ماہ اس نے طویل فاصلے تک سفر کرنے والے راکٹ کا تجربہ کیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ تجربہ مصنوعی سیارہ مدار میں بھیجنے کے لیے کیالیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس کا مقصد بین الابراعظمی میزائل بنانا ہے۔

اس تجربے سے قبل جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو خبردار کیا تھا کہاگر وہ مصنوعی سیارہ بھیجنے کے منصوبے سے باز نہیں آیا تو اسے اس کی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں