عراق کو بصرہ سے چوری ہونے والے تابکار مادے کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption عراق نے گذشتہ برس ہی جوہری توانائی کے عالمی ادارہ آئي اے ای اے کو اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ دس گرام آئریڈیم آئیسوٹوپ ( جو کینسر کے علاج میں کام آتا ہے) چوری کر لیا گیا ہے

عراقی حکام کو ایک ایسے بہت خطرناک تابکار مادے کی تلاش ہے جسےگذشتہ برس بصرہ سے چوری کر لیا گیا تھا اور اس بات کاخدشہ ہے کہ اگر وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ہاتھ لگ گیا تو اسے وہ ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ امریکہ اس بات سے آگاہ ہے کہ جنوبی شہر بصرہ کے پاس ایک مقام سے گذشتہ برس یہ تابکار مادہ غائب ہوا تھا۔

لیکن انھوں نے کہا ابھی تک اس طرح کا کوئی بھی اشارہ نہیں ہے کہ یہ مادہ کسی شدت پسند گروپ کے ہاتھ لگا ہو تاہم اس پر مستقل نگرانی رکھی جائے گي۔

عراق نے گذشتہ برس ہی جوہری توانائی کے عالمی ادارہ آئي اے ای اے کو اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ دس گرام آئریڈیم آئیسوٹوپ ( جو کینسر کے علاج میں کام آتا ہے) چوری کر لیا گیا ہے۔

جوہری مواد کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارہ نے بدھ کے روز کہا کہ اسے عراق نے اس بات سے آگاہ تو کیا تھا لیکن اس کی بازیابی کے لیے اس سے کوئی گزراش نہیں کی گئی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مواد لیپ ٹاپ کے سائز کے ایک کیس میں بصرہ کے پاس اس جگہ محفوظ تھا جہاں تیل نکالنے والی امریکی کمپنی ویدر فورڈ کا اثر و رسوخ ہے۔

عراق میں وزارت ماحولیات کے ایک ترجمان نے اس کی تصدیق کی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر اس پر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

ادھر ویدر فورڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس کی چوری کا ذمہ دار نہیں ہے۔’ہم اس بنکر کے نہ تو مالک ہیں نہ ہی ہمارا اس پر کوئی کنٹرول ہے اور نا ہی ہم اسے چلاتے ہیں، جہاں یہ مواد رکھا جاتا ہے۔‘

چوری شدہ اس تابکار مواد کا استعمال تیل اور گیس پائپ لائن کی جانچ کے لیے بھی کیا جاتا ہے کہ پائپ کا مواد خراب تو نہیں ہے۔

اسی بارے میں