یورپی یونین میں رہنا ہے یا نہیں، ریفرنڈم جون میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ یونین میں جو اصلاحات وہ چاہتے تھے اس میں انہیں کامیابی ملی ہے

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کا حصہ رہنے یا اس سے نکل جانے سے متعلق ریفرنڈم رواں سال 23 جون کو کروایا جائے گا۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے یہ تاریخی اعلان کابینہ سے ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

’معاہدے سے برطانیہ کو خصوصی درجہ ملے گا‘

ڈیوڈ کیمرون کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ اس ریفرنڈم میں ’ہم اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کریں گے‘ اور وہ یورپی یونین کا حصہ رہنے کی مہم چلائیں گے۔

خیال رہے کہ کابینہ کے کچھ وزرا کی خواہش ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو خیر آباد ہی کہہ دینا ملک کے مفاد میں ہے۔

ملک کی وزیرِ داخلہ ٹریسا مئی کا شمار ان وزرا میں ہوتا ہے جو یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ہیں جبکہ وزیرِ قانون مائیکل گوو کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ ڈالنے کی مہم چلائیں گے۔

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کو چھوڑنا اندھیرے میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہوگا۔ ڈیوڈ کیمرون نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیں۔

اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے برطانیہ کو ’خصوصی درجہ‘ حاصل ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا ’اب برطانوی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس طرح سے تشکیل دی گئی یورپی یونین میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘

خیال رہے کہ یورپی یونین کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والے اس معاہدے کا اعلان یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسک نے کیا تھا۔

ڈونلڈ ڈسک کا کہنا تھا کہ یہ نیا معاہدہ برطانیہ کے ’خصوصی درجے کو مضبوطی بخشے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ برطانیہ کو یورپ کی اور یورپ کو برطانیہ کی ضرورت ہے لیکن آخری فیصلہ برطانوی عوام کے ہاتھ میں ہے۔‘

اسی بارے میں