کیمرون کے لیے کڑا امتحان

ڈیوڈ کیمرون اور بورس جانسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ کیمرون چاہتے تھے کہ بورس جانسن یورپی یونین میں رہنے کی حمایت میں ان کا ساتھ دیں

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے سے متعلق اپنی مہم کے آغاز سے قبل اپنی جماعت کی حمایت حاصل کرنے لیے یورپی یونین میں اصلاحات کی ڈیل آج یعنی پیر کو پارلیمان میں پیش کر رہے ہیں۔ ادھر لندن کے میئر بورس جانسن نے باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے حق میں مہم چلائیں گے۔ جبکہ برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن نے کہ دعوی کیا ہے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو یہ بڑا جوا ہوگا۔

لندن کے میئر بورس جانسن کا یہ اعلان وزیر اعظم ڈیوڈ کیمروں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا کیونکہ انھوں نے لندن کے میئر سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کا ساتھ دیں اور برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں مہم چلائیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ یورپی یونین کاحصہ رہنے سے برطانیہ کی خود مختاری سلب ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب لوگ خودمختاری کی بات کرتے ہیں تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ خودمختاری لوگوں کی وہ صلاحیت ہے جس کی مدد سے وہ اپنی زندگیاں گزارتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جن لوگوں کو وہ منتخب کریں وہ ان کے لیے موزوں قانون سازی کریں۔ اور یورپ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہاں خودمختاری بڑی حد تک سلب ہوگئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی حقیقی معنوں میں دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ یورپی یونین کی یا برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بنیادی اصلاحات ہیں۔ اور میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسک ے بارے میں 30 سال لکھنے کے بعد ہمیں اب موقع ملا ہے کہ ہم کچھ کر کے دکھائیں۔اگر مجھے کچھ کرنے کا موقع ملا ہے تو میں ایک نیا تعلق دیکھنا چاہوں گا جس کی بنیاد تجارت اور تعاون پر ہوگی۔لیکن یہ بات میں انتہائی قوم پرست عنصر سے ہٹ کر کر رہا ہوں۔‘

کابینہ کے کچھ وزرا کی خواہش ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو چھوڑ دینا ہی ملک کے مفاد میں ہے۔

Image caption برطانیہ یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو یہ بڑا جوا ہوگا: مائیکل فالن

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ کے سینیئر وزیر ایئن ڈینکن سمتھ بھی برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے حامی ہیں وہ کہتے ہیں کہ یورپی یونین کا حصہ رہنے سے برطانیہ میں بھی پیرس کی طرز کے دہشت گرد حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ادھر اٹلی کے وزیر اعظم مٹیو رنتسی کہتے ہیں کہ ڈیوڈ کیمروں کے لیے ریفرنڈم میں جیت جانا اتنا آسان نہیں۔

’یہ ریفرنڈم کسی کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہوگا۔ڈیوڈ کیمروں پہلے دن سے ہی یہ بات واضح کر چکے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بحث معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں ہو گی۔ لیکن اس سے بڑ ھ کر ایک اہم نقطہ بھی زیر بحث ہو گا اور وہ ہے یورپ ۔دوسرے الفاظ میں ہم ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جو میرے خیال میں سب کے لیے ایک اہم سمجھوتہ ہے۔ لیکن شہری ریفرنڈ م میں ہاں یا نہ سے اپنی رائے کا اظہار کریں گے کہ آیا یورپ ابھی بھی ان کے لیے پرکشش ہے یا نہیں ۔ اور یہ بحث ہمیشہ باقی یورپی ممالک کی نسبت برطانیہ میں زیادہ ہو تی رہی ہے۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم اسی تناظر میں اپنی قدامت پسند جماعت میں ایک بڑی داخلی لڑائی سے نبرد آزما ہیں، تاکہ برطانوی ووٹروں کو یہ یقین دلا سکیں کہ ان کی حکومت اور برسلز کے درمیان طے پانے والی ڈیل برطانیہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے۔

برسلزمیں برطانیہ اور یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان ایک معاہدہ پر اتفاقِ رائے ہوا تھا، جس کا مقصد اس ملک کو یورپی یونین چھوڑنے سے روکنا ہے۔ جس کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا تھا کہ یورپی یونین کا حصہ رہنے یا اس سے نکل جانے سے متعلق ریفرنڈم رواں سال 23 جون کو کروایا جائے گا۔

اسی بارے میں