تارکین وطن کی بس روکنا ’شرمناک‘ ہے: جرمنی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کلوزیٹ کا پناہ گزین کیمپ جہاں گذشتہ ہفتے کچھ لوگوں نے حملہ کیا

جرمنی کی حکومت نے گذشتہ ہفتے ایک ہجوم کی جانب سے 20 تارکین وطن کو ایک پناہ گاہ میں لے جانے والی بس کو روکنے کے واقعہ کو شرمناک قرار دیا ہے۔

جرمن چانسلر اینگلا میرکل کے ترجمان سٹیفن شیبرٹ نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں مشتعل ہجوم کی جانب سے تارکین وطن کی بس کو کلوزیٹ کےشیلٹر ہاؤس کو روکنے کے واقعہ کو بے رحمانہ اور بزدلانہ قرار دیتے ہوئے اس پر معافی مانگی ہے۔

جرمن چانسلر کے ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی ’شرمناک‘ ہے۔

جمعرات کے روز ایک سو لوگوں کے ہجوم نے 20 تارکین وطن کو کلوزیٹ شیلٹر لے جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ہجوم نعرے بلند کر رہا تھا ’ہم عوام ہیں۔‘

ہجوم کی نعرے بازی سے گھبرائے ہوئے تارکین وطن جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، کی چیخ و پکار کی فٹیج جب سامنے آئی تو لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑگئی ہے۔

کلوزیٹ میں تارکین وطن کی بس کو روکنے کے واقعہ کے دو روز بعد باٹزن میں پناہ گزینوں کے مرکز کو نذر آتش کر دیاگیا۔ اس موقع پر تماشیوں کا ایک گروہ تالیاں بجاتا ہوا دیکھا گیا۔

چانسلر اینگلا میرکل کے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک ایسا کام ہے جسے ہم برلن میں بیٹھ کر حل نہیں کر سکتے بلکہ بطور ایک معاشرہ ہمیں اس کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنا ہو گا۔

دریں اثنا مقامی حکام نے پناہ گزینوں کے مرکز کےڈائریکٹر کو تارکین وطن مخالف تنظیم ’آلٹرنیٹو فار جرمنی‘ یعنی جرمنی کے متبادل گروپ سے روابط رکھنے کی بنا پر اپنے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

جرمنی کے ایک سینیئر ممبر پارلیمنٹ نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ تارکین وطن کی آبادی کاری کے حوالے سے وقت ان کے ملک کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور چانسلر اینگلا میرکل کو اس مسئلے کا جلد حل نکالنا ہو گا۔

جرمنی نےگذشتہ برس گیارہ لاکھ تارکین وطن کو ملک میں پناہ دی لیکن حالیہ ایام میں وہاں تارکین وطن کے خلاف حملے بڑھ گئے ہیں۔

اسی بارے میں