سعودی عرب میں 32 شیعہ افراد کے خلاف غداری کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

سعودی عرب کےذرائع ابلاغ کےمطابق حکومت 32 شیعہ افراد کے خلاف ایران کےلیے جاسوسی کرنے کےالزام مقدمہ چلا رہی ہے۔

ان افراد کو غداری، ایران کی انٹیلیجنس ایجنسی کے لیے جاسوسی کا نیٹ ورک چلانا اور فوجی علاقوں کے حوالے سے حساس معلومات فراہم کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب سے ہے جبکہ ایک ایرانی اور ایک افغان باشندہ شامل ہے۔

سعودی عرب کے میڈیا کے مطابق ان افراد پر خصوصی کرمنل کورٹ میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پر مقدمے کا آغاز اتوار کو ہوا جبکہ ان کو 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جن افراد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں کئی معروف شیعہ شخصیات شامل ہیں جو سیاست میں سرگرم نہیں۔ ان کے علاوہ یونیورسٹی کے ایک بزرگ پروفیسر، ماہر امراض بچگان، ایک بنکر اور دو مولوی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ قاطف کے علاقے میں زیادہ تر شیعہ آباد ہیں۔ سعودی عرب کی کُل آبادی میں سے 15 فیصد آبادی شیعہ ہے۔

سعودی عرب میں میں اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا اور 2011 اور 2013 کے درمیان سکیورٹی فورسز نے 20 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا اور سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا تھا۔

اس عرصے میں فائرنگ اور پیٹرول بموں کے حملوں میں کئی پولیس افسر بھی ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب نےرواں سال جنوری میں اس وقت ایران سے سفارتی تعلقات کر لیے تھے جب سعودی عرب میں شیعہ رہنما شیخ نمر النمر کو پھانسی پر چڑھائے جانے کے بعد تہران میں مظاہرین نے اس کے سفارخانے پر حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں