’بچے کی سزا کی وجہ مجرم کا ہم نام ہونا بنی‘

Image caption فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سزا احمد منصور قرنی شرارہ نامی 16 سالہ شخص کو ہونی چاہیے تھی نہ کہ چار سالہ احمد منصور قرنی علی کو۔

مصر کی فوج کا کہنا ہے کہ ایک فوجی عدالت کی جانب سے چار سالہ بچے کو عمرقید کی سزا سنائے جانے کا معاملہ بچے اور اصل مجرم کے ہم نام ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔

فوجی عدالت نے گذشتہ ہفتے چار سالہ احمد منصور قرنی علی کو قتل کے جرم میں عمرقید کی سزا سنائی تھی۔

تاہم اب مصری فوج کے ترجمان کرنل محمد سمیر نے کہا ہے کہ عدالت کو اصل میں اسی نام کے ایک 16 سالہ لڑکے کو سزا سنانی چاہیے تھی۔

احمد قرنی علی کو سنہ 2014 میں فیوم نامی صوبے میں ہنگامہ آرائی میں ہونے والی ہلاکتوں پر اخوانِ المسلمین کے 115 دیگر ارکان کے ہمراہ مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے عدالت میں شناختی دستاویزات بطور ثبوت پیش کیے تھے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو احمد کی عمر ایک برس تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں سنہ 2013 میں فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عدالتی نظام مسلسل تنقید کا ہدف رہا ہے

فیس بک پر ایک پیغام میں فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سزا احمد منصور قرنی شرارہ نامی 16 سالہ شخص کو ہونی چاہیے تھی نہ کہ چار برس کے احمد منصور قرنی علی کو۔

تاہم انھوں نے پیغام میں یہ واضح نہیں کیا کہ اب اس چار سالہ بچے کو سنائی گئی سزا کا مستقبل کیا ہوگا۔

بچے کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کا نام فہرست میں سہواً شامل ہوا اور عدالتی عملے نے جج کو بچے کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ پیش ہی نہیں کیا تاکہ اس کی عمر کی تصدیق ہو سکے۔

ان کے مطابق نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں قتل کے چار، اقدامِ قتل کے آٹھ الزامات کے علاوہ حکومتی املاک کو نقصان پہچانے کے جرم میں سزا سنا دی گئی۔

مصر میں سنہ 2013 میں فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عدالتی نظام مسلسل تنقید کا ہدف رہا ہے۔

اسی بارے میں