’گوانتانامو امریکہ کی شبیہ پر ایک داغ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر براک اوباما نے دفتر نے گوانتانامو کے متنازع امریکی حراستی مرکز کو بند کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں امریکی محکمۂ دفاع نے وہاں اس وقت زیرِ حراست 91 افراد کو ان کے اپنے ممالک یا امریکی فوج کی جیل اور یا پھر عام شہریوں کے لیے بنی جیلوں میں منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔

تاہم کانگریس نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد روکنے کی امید کی ہے۔

اس جیل پر سالانہ 445 ملین ڈالر کا خرچ آتا ہے اور اس حراستی مرکز کی بندش امریکی صدر براک اوباما کے ابتدائی منصوبوں میں شامل رہی ہے۔

منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ یہ حراستی مرکز ملکی سکیورٹی کو کمزور بنا رہا ہے۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’یہ ہماری تاریخ میں سے ایک باب کو بند کرنے جیسا ہے۔ یہ اس سبق کی عکاسی کرتی ہے جو ہم نے نائن الیون کے بعد سیکھا۔ ایسا سبق جو ہماری قوم آگے بڑھنے میں رہنمائی کرے گا۔‘

پینٹاگون کی تجویز کی روشنی میں ایک اندازے کے مطابق اس منتقلی سے 180 ملین ڈالر سالانہ کی بچت ہو سکے گی۔

امریکی صدر براک اوباما جو آئندہ جنوری میں اپنی دوسری اور آخری مدت مکمل کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو ان کے بعد آنے والے صدر کو منتقل نہ کرنا بہت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مرکز کو کھلا رکھنا ہمارے اقدار کے خلاف ہے۔ اس سے دنیا میں ہماری ساکھ کمزور ہو رہی ہے۔ قوانین کے اعلیٰ معیار رکھتے ہوئے یہ ہمارے سرحدی ریکارڈ پر ایک داغ ہے۔‘

اس منصوبے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ حراست میں رکھے جانے والے ان افراد کو امریکہ میں کہاں منتقل کیا جائے گا۔

اسی بارے میں