اغوا کا الزام سی آئی اے پر، مذمت اٹلی کی

یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے امریکی خفیہ ادارے کی طرف سے میلان سے ایک امام مسجد کو ’اغوا‘ کرنے کے واقعہ پر اطالوی حکومت کی مذمت کی ہے۔

مصر سے تعلق رکھنے والے حسن مصطفی اوساما نصر کو سی آئی اے نے سنہ 2003 میں میلان کی ایک گلی سے اٹھا لیا تھا۔

اوساما نصر کو جو ابو عمر کے نام سے بھی جاننے جاتے ہیں مصر لے جایا گیا تھا جہاں اُن کے بقول اُن پر تشدد کیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا ہے کہ اٹلی اس کیس میں انسانی حقوق کی کئی خلاف ورزیوں کو مرتکب ہوا ہے۔

سنہ 2009 میں اٹلی میں 23 امریکی شہریوں اور دو اطالوی باشندوں کو اغواء کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ تمام امریکی شہریوں پر غائبانہ مقدمہ چلایا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ اطالوی حکام کی طرف سے واضح طور پر حساس حکومتی معاملات کو خفیہ رکھنے کا اصول اپنایا گیا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو لوگ اس واقع کے اصل ذمہ دار تھے ان کو اپنے عمل کا جوابدہ نہ ہونا پڑے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس مقدمے میں کسی کو سزا نہیں سنائی گئی اور ان کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔

عدالت نے اطالوی حکام کو حکم دیا کہ وہ ابو عمر اور ان کی بیوی نبیلہ گیلانی کو نوے ہزار پونڈ معاوضے کے طور پر ادا کریں۔

اغواء کیے جانے کے وقت ابو عمر کو اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل ہو چکی تھی۔

میلان سے بذریعہ اٹلی اور جرمنی میں قائم امریکی اڈوں کے مصر لیے جائے جانے کے بعد چار سال تک ان کو بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا گیا اور پھر انھیں رہا کر دیا گیا۔

میلان کی ایک عدالت نے دسمبر 2013 میں ابو عمر کو دہشت گردی کے ارادوں سے جرائم پیشہ عناصر سے رابطے میں رہنے کے جرم میں چھ سال کی غائبانہ سزا سنائی۔

اسی بارے میں