برطانیہ دنیا کے لیےخطرناک مثال قائم کر رہا ہے: ایمنسٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ برطانیہ انسانی حقوق کے حوالے سے دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو شائع ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی کمی دنیا بھر کےآمروں کے لیے ایک تحفہ ہے۔

اس رپورٹ میں برطانیہ کے مختلف اقدامات پرخدشات کا اظہار کیاگیا ہے جن میں پناہ گزینوں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار، تحقیقاتی اختیارات کے مجوزہ بل اور سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق لائسنسز کا اجرا شامل ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کی جانب سے مختلف محاذوں پر انسانی حقوق کے اداروں کو کمزور کرنے سے ایک خطرناک مثال قائم ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ یورپ میں پناہ گزینوں کی برھتی ہوئی تعداد اور ان کی ذمہ داری بانٹنے سے متعلق یورپی یونین کی کوششوں میں حصہ ڈالنے سے انکاری ہے۔

سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے گذشتہ ستمبر میں شامیوں کے لیے آباد کاری سکیم میں توسیع کا اعلان کیا گیا لیکن اس کے باوجود برطانیہ میں یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں توسیع کرتے ہوئے ایسے پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دے جن کے خاندان والے برطانیہ میں ہی رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ تنظیم نے برطانوی حکومت کے تحقیقاتی اختیارات کے مجوزہ بل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم نے برطانیہ میں نگرانی سے متعلق اس بل کا مسودہ دوبارہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ بھی کہنا تھا کہ یمن میں جاری تنازع میں ایک سال قبل سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد نے مداخلت کرنا شروع کی اس تنازع میں ہزاروں یمنی شہری مارے جا چکے ہیں لیکن برطانوی حکومت نے جنگی طیاروں سمیت بم اور ہتھیار سعودی عرب کو برآمد کرنے کے لیے اربوں پاؤنڈز مالیت کے لائسنس جاری کیے۔

اسی بارے میں