’یونان کو انسانی روحوں کا گودام نہیں بننے دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ ان کے ملک کو پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا جائے

یورپ میں پناہ گزینوں کی پہلی منزل بننے والے ایک ملک یونان نے آسٹریا اور خطۂ بلقان کے متعدد ممالک کی جانب سے اپنی سرزمین پر داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں قابلِ ذکر کمی کے مطالبے پر کڑی تنقید کی ہے۔

یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے تنظیم کے تمام رکن ممالک میں اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

یونانی وزیرِ اعظم ایلیکسس تسیپراس کا کہنا ہے کہ اس صورت میں جب کہ پناہ گزین یورپ کے دیگر ممالک کی جانب بڑھنے میں ناکام ہیں ان کا ملک ’ارواح کا مستقل گودام‘ بنتا جا رہا ہے۔

یونان نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین کے رکن ممالک پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی متناسب تعداد کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے تو وہ پناہ گزینوں کے مسئلے پر یونین کے سربراہ اجلاس کے تمام فیصلوں کو ’بلاک‘ کر دے گا۔

بدھ کو پارلیمان سے خطاب میں یونانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ ان کے ملک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپ میں پناہ گزینوں کی آمد کے آغاز سے ہی جرمنی ان کی پسندیدہ ترین منزل رہا ہے

’ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ ہمارے ملک کو ارواح کے مستقل گودام کی شکل دی جا رہی ہو اور ہم یورپی یونین اور اس کے سربراہ اجلاسوں میں ایسا رویہ رکھیں کہ جیسے کچھ غلط ہو ہی رہا نہیں ہے۔‘

ایلیکسس تسیپراس نے کہا کہ ’اب سے یونان کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک رکن ممالک میں متناسب طریقے سے (پناہ گزینوں کے) بوجھ اور ذمہ داری کی لازمی تقسیم یقینی نہیں بنائی جاتی۔‘

بدھ کو ہی ویانا میں منعقدہ ایک اجلاس میں آسٹریا اور بلقان ممالک کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ جمعرات کو یورپی یونین کے اجلاس میں دو اہم مطالبات پیش کریں گے۔

ان مطالبات میں پناہ گزینوں کی تعداد کمی کے علاوہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں داخل ہونے والے تمام افراد کے انگلیوں کے نشان لیے جانے اور وہ افراد جن کے کاغذات جعلی ہوں یا ان کے پاس دستاویزات نہ ہوں، انھیں سرحد سے ہی واپس کر دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریا کی جنوبی سرحد پر اب ایک دن میں پناہ کی صرف 80 درخواستیں ہی وصول کی جا رہی ہیں

اسی سلسلے میں آسٹریا کی وزیرِ داخلہ جوہانا مکلیٹنر نے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی یورپی یونین کی بقا کا معاملہ ہے۔

یہ اجلاس بلانے پر آسٹریا کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یورپ کو پناہ گزینوں کے مسئلے پر ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کے لیے مہمیز دینا تھا۔

مغربی یورپ کے ممالک کی جانب سے سرحدی پابندیوں کے نفاذ کی وجہ سے یونان میں اس وقت ہزاروں پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں

آسٹریا میں حال ہی میں روزانہ ایک مقررہ تعداد میں پناہ گزینوں یا تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت دینے کا قانون نافذکیا گیا ہے جس کے تحت ملک کی جنوبی سرحد پر ایک دن میں پناہ کی صرف 80 درخواستیں ہی وصول کی جائیں گی اور یہ تعداد پوری ہونے پر سرحد بند کر دی جائے گی۔

امدادی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی ایک ترجمان جیما جیلی نے کہا ہے کہ افغان باشندوں کو یورپ میں آگے بڑھنے سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ نظام اس بوجھ کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر پائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے جمعرات کو کہا کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ یونان آنے والے پناہ گزینوں میں سے 30 فیصد افغانی ہیں، چھ دن میں یونان میں پناہ گزینوں کے سب کیمپ بھر جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اس قسم کی پابندی شامی اور عراقی پناہ گزینوں پر بھی لگے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یونان کے پاس اتنے افراد کے لیے جگہ نہیں ہے۔‘

گذشتہ برس یورپ میں تقریباً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا ہے۔

.ان میں سے بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ان میں عراق اور افغانستان کے لوگوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

اسی بارے میں