سعودی عرب اور بحرین کی لبنان کے لیے سفری ’پابندیاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کسی بھی خلیجی ملک نے اس پابندی کی وجوہات نہیں بتائیں سوائے حفاظتی بنیادوں کے

سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اپنی شہریوں کو لبنان کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بحرین اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی حفاظت کے لیے لبنان چھوڑ دیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات نے لبنان کے سفر پر ’مکمل پابندی‘ عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہ زیادہ تر سفارتکاروں کو بیروت سے بلا رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے لبنانی حکومت کی جانب سے ایران میں سعودی سفارتخانے پر حملے کی مذمت نہ کرنے کے بعد سعودی عرب نے اس کی دو ارب ڈالر کی فوجی امداد روک دی تھی۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں سعودی حکام کی جانب سے معروف شیعہ عالم کو سزائے موت دیے جانے کے بعد تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مظاہرین نے حملہ کیا تھا۔

دوسری جانب لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے امداد بند کرنے کا اعلان اس لیے کیا ہے کیونکہ اس پر یمن میں جاری تنازعے اور تیل کی آمدن میں کمی کے باعث اقتصادی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

لبنان میں سّنی سیاست دان سعد الحریری نے سعودی عرب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ لبنان کو تنہا نہ چھوڑے اور اس کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے قبول کرے۔‘

سعد الحریری نے عہد کرتے ہوئے کہا کہ ’لبنان خطے میں ایرانی پالیسیوں کا محافظ نہیں بنے گا۔‘

سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزرا خارجہ نے منگل کے روز لبنان کا سفر کرنے سے گریز کی وجہ سوائے حفاظتی اقدامات کے علاوہ کوئی اور نہیں بتائی۔

اسی بارے میں