یونان کی سرحد پر مایوسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب تک کہ مقدونیہ کی شمالی سرحد کو دوبارہ نہیں کُھول دیا جاتا، مقدونیہ کسی کو بھی اپنی جنوبی سرحد پار نہیں کرنے دے گا

مقدونیہ اور یونان کی سرحد کے درمیان واقع آئی ڈومینی کے تارکین وطن کیمپ میں مایوسی کی فضا ہے۔

ایک شامی نوجوان جو کہ سرحد کے دروازے پر قطار بنائے کھڑے تھے، کا کہنا تھا کہ ’میں مقدونیہ سے التجا کرتا ہوں کہ ہمیں اندر داخل ہونے دے۔‘ وہ کئی گھنٹوں سے وہاں برستی ہوئی بارش میں کھڑے تھے۔

خار دار تاروں سے لپٹے گیٹ جن سے ہر مہاجر اور پناہ گزیں کو گزرنا پڑتا ہے، اُنھیں گذشتہ 24گھنٹوں سے مقدونیہ کی جانب سے بند کردیا گیا ہے۔ مقدونیہ اور سربیا کی سرحد کو بند کیا جا چکا ہے۔

جب تک کہ مقدونیہ کی شمالی سرحد کو دوبارہ نہیں کُھول دیا جاتا، مقدونیہ کسی کو بھی اپنی جنوبی سرحد پار نہیں کرنے دے گا ۔ یہ اولین درجے کا عملداری اثر ہے۔

غلط سمت میں نقل وحرکت

شامی، عراقی اور افغانی باشندوں کو یونان کی سرحد کے ذریعے منتقل کرنے کا عمل باقاعدگی سے چل رہا ہے۔ 24 گھنٹے بسیں اُنھیں ایتھنز سے مقدونیہ کے ساتھ واقع سرحد تک لانے کے لیے نکلتی ہیں۔

لیکن اب یہ نظام اپنی حدوں کو پہنچ چکا ہے۔ افغان باشندوں کو اس عمل کے مکمل کرنے کے لیے بنائی گئی نئی پالیسی کی وجہ سے منگل کے روز سرحد پار کرنے میں پریشانی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے درجنوں افغانی باشندے سرحد پر موجود رکاوٹوں کو نظر انداز کررہے ہیں اور مقدونیہ میں مشکلات میں پھنس رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئی پابندیوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ عراقی اور شامیوں کو اندراک کی کاغذی کارروائی کرنے کے علاوہ اب ایک شناختی دستاویز کی بھی ضرورت ہے

فسادات کو روکنے کے لیے پولیس تعینات کردی گئی اور بالآخر حالات بحال ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے بعد افغانیوں نے جنوب میں جہاں تک ممکن تھا ایتھنز کی جانب نقل مکانی کی۔ وہ غلط سمت میں لیکن مہاجرین کے طور پر منتقل ہورہے تھے۔

امدادی کارکنوں نے بتایا کہ بُدھ کے روز کیمپ میں موجود کچھ افغان باشندے کسی بھی بس میں سوار ہونے کے بجائے آس پاس کے ممالک بھاگ گئے۔ انھوں نے اس اُمید پر وہاں روپوش ہونے کا منصوبہ بنایا ہے کہ پابندیاں ہٹادی جائیں گی۔

اور شمال کی جانب آگے بڑھنے پر عائد پابندیوں نے عراقی اور شامی باشندوں کو پریشان کردیا ہے۔ کیا اگلی قوم وہ ہوں گے جنھیں وہاں جانے سے روکا جائے گا؟

جما گیلی سرحدوں پر موجود ایک نرم گُفتار سکاٹ لینڈ کی رہائشی ہیں۔ وہ بین الاقوامی امدادی ادارے میڈیسن سینس فرنٹیئرز کی جانب سے کیمپ میں ترجمان کے طور پر مقیم ہیں اور کہتی ہیں کہ کیمپ میں موجود تمام تارکینِ وطن آگے بڑھنے کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا ’افغانیوں کے لیے پابندیاں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے لگائی گئی تھیں۔ شامیوں اور عراقیوں کے درمیان یہ حقیقی احساس موجود ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ پابندیاں اُن پر بھی لاگو کی جاسکتی ہیں۔

اور نئی پابندیوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ عراقی اور شامیوں کو اندراک کی کاغذی کارروائی کرنے کے علاوہ اب ایک شناختی دستاویز کی بھی ضرورت ہے۔ اِن میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو وہاں سے صرف اپنے کپڑوں کے ہمراہ بھاگے ہیں اس لیے زیادہ تر کے پاس وہ نہیں ہیں اور وہ اس متعلق فکرمند ہیں کہ وہ سرحد پار نہیں کرپائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس وقت بُنیادی تشویش یہ ہے کہ بلقان کے ذریعے سرحدی دروازے خرابی کا باعث بننے لگیں گے

اُنھیں اس بات کا بھی خوف ہے کہ یونان کے پاس اتنی بڑی تعداد میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ اور ہزاروں لوگوں کو کسی مناسب رہائش، صاف پانی اور غذا کے بغیر چھوڑ دیا جائے گا۔

تو اُن کے لیے پیشگی طور پر کیا کیا جارہا ہے۔ آسٹریا نے بدھ کے روز مغربی بلقان کی ریاستوں کے وزرا کے ساتھ ایک اجلاس کیا جس کا زیادہ مقصد یونان کو ایذا پہنچانا تھا، جو کہ اس اجلاس میں مدعو نہیں تھا۔

انھوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی آمد کو ’معقول حد تک کم‘ کردینا چاہیے اور یہ کہ کوئی بھی جس کو ’بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت نہیں‘ اُسے واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس وقت بُنیادی تشویش یہ ہے کہ بلقان کے ذریعے سرحدی راستے خرابی کا باعث بننے لگیں گے۔ جس کی وجہ سے یونان میں ایک نیا انسانیت کے حوالے سے بحران پیدا ہوجائے گا۔

اسی بارے میں