’یورپ کا سرحدی نظام چند ہفتوں میں ناکارہ ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption .اس سال اب تک ایک لاکھ پناہ گزین غیرقانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہو چکے ہیں ان میں سے تقریباً تمام یونان میں موجود ہیں

یورپ کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے معاملے پر یورپی یونین کے رکن ممالک کے اختلافات میں اضافے کے بعد ہوگئی ہے اور یونان نے آسٹریا سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

ادھر مہاجرت کے بارے میں یورپی یونین کے کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ یورپی ممالک کا سرحدی نظام چند ہفتوں میں مکمل طور پر ناکارہ ہو سکتا ہے۔

برسلز میں جمعرات کو تنظیم کے رکن ممالک اور بلقان ریاستوں کے وزرائے داخلہ کے اجلاس کے بعد دمیترس آو راموپولس نے کہا کہ یورپی یونین کے پاس پناہ گزینوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے دس دن کا وقت ہے اور ایسا نہ ہوا تو اسے اپنے ’اوپن بارڈر سسٹم‘ کی تباہی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سات مارچ کو ترکی سے اس بحران پر سربراہ بات چیت سے قبل ہمیں ٹھوس اور واضح نتائج دکھانے کی ضرورت ہے۔

یونان کی جانب سے آسٹریا سے سفیر کی واپسی کا اقدام اس بحران پر آسٹریا اور بلقان کی ریاستوں کے اس اجلاس کے انعقاد کے جواب میں کیا گیا ہے جس میں یونان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔

یونان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سفیر واپس بلانے کا فیصلہ ’ریاستوں اور یونان اور آسٹریا کے عوام کے دوستانہ تعلقات کو بچانے کے لیے کیا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سات مارچ کو ترکی سے اس بحران پر سربراہ بات چیت سے قبل ہمیں ٹھوس اور واضح نتائج دکھانے کی ضرورت ہے: دمیترس آو راموپولس

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یورپی یونین کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا حل ’اس ذہنیت اور ایسے غیر ادارہ جاتی اقدامات میں نہیں جن کی جڑیں 19ویں صدی میں ہیں۔‘

برسلز میں اجلاس میں شرکت کے بعد یونان کے وزیرِ مہاجرت یانس موزالس نے کہا کہ ان کا ملک ’یورپ کا لبنان بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

آسٹریا، سربیا اور مقدونیہ نے اپنی سرزمین پر پناہ گزینوں کی تعداد محدود کرنے کے لیے اپنے طور پر اقدامات کیے ہیں جن کے نتیجے میں یونان میں بڑی تعداد میں پناہ گزین پھنس کر رہ گئے ہیں۔

ان اقدامات کی وجہ سے یورپ میں بغیر پاسپورٹ سفر کے قابل علاقے یعنی شینگن زون کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اس زون میں شامل 26 ممالک میں سفر کے لیے سرحدی پابندیاں موجود نہیں ہیں۔

برسلز میں ہونے والی ملاقات میں یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ کو آسٹریا اور آٹھ بلقان ممالک کی جانب سے تیار کردہ اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی جس میں تمام تارکینِ وطن کی انگلیوں کے نشانات لینے اور پاسپورٹ کے بغیر یا جعلی دستاویزات پر یورپ میں داخل ہونے والوں کو واپس بھیجنا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یونان کے وزیرِ مہاجرت یانس موزالس نے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپ کا لبنان بننے کے لیے تیار نہیں

اِن ممالک نے اِس بات کا بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف اُن تارکین وطن کو قبول کریں گے جن کو تحفظ کی اشد ضرورت ہوگی۔

گذشتہ برس یورپ میں تقریباً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا ہے۔

.اس سال اب تک ایک لاکھ پناہ گزین غیرقانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہو چکے ہیں ان میں سے تقریباً تمام یونان میں موجود ہیں۔

ان افراد میں سے بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ان میں عراق اور افغانستان کے لوگوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

اسی بارے میں