تھائی لینڈ میں قید پاکستانی عیسائیوں کا المیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption پاکستانی عیسائی تھائی لینڈ آتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں ایک مختصر مدتی سیاحتی ویزے پر داخل ہونا آسان ہے

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سیاحوں کی مہمان نوازی کے حوالے سے مقبول تھائی لینڈ ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کو گرفتار کرکے زیرِحراست رکھتا ہے۔

’ پاکستان اب بھی ہمارے خون میں شامل ہے‘

اِن میں سے زیادہ تر پاکستانی عیسائی ہیں جو اپنے ملک سے مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے فرار ہوئے۔ اِن میں سے کچھ بچے ہیں۔ اور وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے رجسٹر شدہ پناہ گزین ہونے کے باوجود گرفتار ہیں اور اقوامِ متحدہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ اُن کی حفاظت کرے۔

پاکستانی عیسائی تھائی لینڈ آتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں ایک مختصر مدتی سیاحتی ویزے پر داخل ہونا آسان ہے۔

لیکن شاید ہی تھائی لینڈ میں اُن کا استقبال کرنے والی کوئی کمیٹی ہو۔ یہ ملک کہیں سے بھی آنے والے پناہ گزینوں کو نہیں رکھنا چاہتا۔ یہ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے کنونشن کا معاہدے میں شامل نہیں ہے اور کوئی بھی جس کے پاس درست ویزا یا ملازمت کا ویزا نہیں ہے اس کے لیے خطرات ہیں کہ اُسے گرفتار کرلیا جائے اور اُس پر غیر قانونی نقل مکانی کا مقدمہ قائم کرکے اُسے جیل میں ڈالا جاسکتا ہے۔

تھائی لینڈ نے اقوامِ متحدہ کی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی ایجنسی، یواین ایچ سی آر کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ظلم وستم کی وجہ سے بھاگنے کا دعویٰ کرنے والوں کی ساکھ کے متعلق تحقیقات کریں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے وطن واپسی یا پھر کسی دوسرے ملک منتقلی کی صورت میں دو نتائج نکل سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے اقوامِ متحدہ کی جانب سے اقدامات کے منتظر ہیں اور نہ وہ کوئی ملازمت کرسکتے ہیں، نہ تعلیم تک اُن کی رسائی ہے اور نہ ہی اُنھیں طبی سہولیات میسر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے یو این ایچ سی آر نے تسلیم کیا کہ وہ جدوجہد کررہے ہیں

اپنے کیس کے نتائج کے انتظار میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی پناہ گُزینوں نے بینکاک کے نواح میں ٹاور بلاکس کے نیٹ ورک کے تنگ و تاریک کمروں میں اپنے عارضی گھر قائم کرلیے ہیں۔ وہ لوگ جو خوش حال زندگیاں گزار رہے تھے یہاں چند سازوسامان کے ساتھ پہنچے اُن کا کرایہ اور کھانے کے خرچ کی ادائیگی مقامی عیسائی خیراتی اداروں کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اور وہ مسلسل خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں۔

تھائی لینڈ کی نقل مکانی کے حوالے سے پولیس، اقوامِ متحدہ کی جانب سے پناہ گزینی کے منتظر افراد کے مقدمات کا عمل وقت پر مکمل نہ کرنے کی وجہ سے اپنا صبر کھوچکی ہے۔ ایک نوجوان شخص جس نے اپنے بازؤں میں ایک 25 ماہ کی کمزور سی بچی تھام رکھی تھی، مجھے بتایا کہ ’وہ ہر جگہ سے لوگوں کو اُن کے کمروں سے اُٹھا کر لے جارہے ہیں وہ کسی بھی وقت چھاپہ مار سکتے ہیں ہر وقت پریشانی سی رہتی ہے۔‘

میں نے سُنا کہ امیگریشن پولیس قریبی کمروں پر چھاپہ مار رہی ہے اس لیے میں سیدھا وہیں گیا اور میں نے دیکھا کہ درجنوں کی تعداد میں خواتین رو رہی ہیں اور انھوں نے اپنے بچوں کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے۔‘

پولیس نے دروازوں کو توڑا اور اُن تمام خواتین کے شوہروں کو لے گئی۔ دوسرے رہائشی حصے سے خواتین اور بچوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سب نے بتایا کہ 50 سے زائد پاکستانی پناہ گزینوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مجھے وہ ایک مقامی عدالت میں ملے جہاں اُنھیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں، اُن پر غیر قانونی نقل مکانی کا مقدمہ قائم تھا، اُن پر 90 یورو کا جرمانہ عائد تھا اور اس کے بعد اُنھیں بینکاک کے حراستی مرکز بھیجا گیا۔

ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تمام رجسٹر شدہ پناہ کے خواہش مند افراد کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک دستاویز کا اجرا کیا گیا ہے جس کے تحت تصدیق کی گئی ہے کہ ’وہ بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ افراد ہیں۔‘ جس کا مطلب ہے کہ جب تک اقوامِ متحدہ اُن کے معاملات کی چھان بین کا عمل مکمل نہیں کرلیتا اُس وقت تک انھیں نہ تو گرفتار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پناہ گزینی کی تلاش کے جُرم میں پابندِ سلاسل کیا جاسکتا ہے۔

پہلے میں نے ایک صابر نامی شخص سے ملاقات کی جو دو سال قبل پاکستان سے اپنی بیوی لیلیٰ، دوبیٹیوں، لیلیٰ کے والدین، لیلیٰ کے بہن بھائیوں اور اُن کے دادا، دادی، نانا، نانی کے ہمراہ فرار ہوکر یہاں آئے۔ وہ تمام دس افراد لیلیٰ کے گذشتہ ماہ گرفتار ہونے تک ایک چھوٹے اور کم گنجائش والے کمرے میں رہتے تھے جس میں نہ باورچی خانہ ہے اور نہ ہی بیت الخلا ہے۔

صابر نے اپنی بیوی کو تب سے نہیں دیکھا اور سسکیاں لیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے بغیر برباد ہوگیا ہے۔ تاہم اُنھیں پاکستان چھوڑنے پر کوئی افسوس نہیں ہے جہاں اُن کے مطابق ایک گروہ اُن کے خاندان کو مذہب اسلام اختیار نہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔

انھوں نے بتایا ’یہاں ہمیں اگر کوئی خوف ہے تو وہ صرف امیگریشن پولیس کا ہے اس کے علاوہ کوئی خوف نہیں۔‘

لیکن اقوامِ متحدہ سنہ 2018 تک اِن کے کیس کی تحقیقات نہیں کرے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ انھیں بتایاگیا کہ ایسے کیسوں کا انبار لگا ہوا ہے۔

بی بی سی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے یو این ایچ سی آر نے تسلیم کیا کہ وہ جدوجہد کررہے ہیں۔

لیکن یو این ایچ سی آر نے کہا کہ اُس نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران 400 سے زائد افراد کو ’جو یواین ایچ سی آر کے قوانین کے دائرہ کار میں آنے والے لوگ تھے، اُنھیں رجسٹری شدہ پناہ گزینوں کی حثیت کے طور پر منوانے کے بعد گرفتاری سے بچایا ہے۔‘

تاہم تھائی لینڈ کی حکومت کو شکایت ہے کہ اقوام متحدہ کی عدم توجہی ’اُن کی حفاظت پر دورس اثرات مرتب کررہی ہے۔‘ گذشتہ ایک سال کے دوران ایک بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی گرفتاریوں کی وجہ سے تھائی لینڈ کو ایک خوف یہ بھی ہے کہ پاکستانی مہاجرین دہشت گردی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

کوئی بھی شخص کو جسے گرفتار کیا جاتا ہے جیسے کہ صابر کی بیوی کی مثال لے لیں تو اس گرفتار شدہ شخص کو بینکاک کے گندے اور لوگوں سے کھچا کھچ بھرے امیگریشن حراستی مرکز لے جایا جاتا ہے۔

اندر صحافی اور کیمرے لے جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن قیدیوں کے لیے انتہائی ضروری تازہ پانی اور کھانے لے جانے والے رضاکاروں کو داخلے کی اجازت ہے اور اسی طرح سے میں بھی بی بی سی کے عملے کے دیگر ارکان کے ہمراہ وہاں داخل ہوا۔ تلاش پُروف خفیہ کیمرے پہنے ہم نے بے چینی سے حفاظتی چیک پوائنٹس سے گزرے اور تلاشی لینے والے چوکیداروں کو اپنا پانی اور کھانا تھمایا۔

ہمیں ایک بڑے، حبس زدہ کمرے میں لے جایا گیا جو پناہ گزینی کے خواہشمند سینکڑوں افراد سے بھرا ہوا تھا جو اپنے چہرے ایک تار سے بنی اندرونی رکاوٹ سے چپکائے کھڑے تھے۔ وہ تقریباً تمام پاکستانی ہیں۔ دن میں ایک گھنٹے کے لیے 200 کے قریب قید پناہ گزینوں کو اُن کے سیل سے ملاقاتیوں سے ملنے کے لیے باہر نکالا جاتا ہے۔

وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ ہم بی بی سی کے صحافی ہیں، مرد نیم عریاں تھے اور انھوں نے ہمیں اس کی وجہ یہ بتائی کہ کھچا کھچ بھرے ہوئے اِن قید خانوں میں خود کو ٹھنڈا رکھنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

خواتین نے مضبوطی سے اپنے بچوں کو تھام رکھا تھا۔ زیادہ تر خواتین اس بات کی شکایت کررہی تھیں کہ اُن کے بچے صفائی سُتھرائی کی خراب صورتحال اور پینے کے گندے پانی کی وجہ سے ہیضہ اور قے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

کمروں میں بے حد شور مچا ہوا تھا کیوں کہ قیدی وہاں آنے والے امدادی کارکنوں سے اپنی رہائی میں مدد کرنے کی اپیل کررہے تھے لیکن کارکن اُنھیں صرف اور صرف پینے کا صاف پانی اور کھانا ہی فراہم کرسکتے تھے۔

ایک ماں نے مجھے بتایا کہ وہ گذشتہ تین ماہ سے اپنے بچوں کے ہمراہ یہاں قید ہیں۔ اُنھوں نے بتایا ’میرا چھوٹا بچہ تین سال اور بڑا بچہ دس سال کا ہے۔ اُنھیں یہاں رہنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے اور وہ بہت بیمار پڑ رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption زیرِحراست افراد کے متعلق کوئی قانونی اعداد وشمار موجود نہیں ہیں

تھائی لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ والدین ’اکثر خود اپنے ساتھ اپنے بچوں کو حراستی مرکز میں رکھنے کا انتخاب کرتے ہیں۔‘

باوجود اس کے کہ تھائی لینڈ اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین پر دستخط کیے ہیں جن کے تحت قیدیوں کے ساتھ شفیق رویہ روا رکھا جائے گا اور بالخصوص بچوں کو بالغوں کے حراستی مراکز سے باہر رکھا جائے گا۔

جتنے بھی قیدیوں سے میں نے بات کی اُن میں سے کسی کو بھی اُن کی حراست سے لے کر اب تک یو این ایچ سی آر کی جانب سے قانونی مدد فراہم نہیں کی گئی۔

19 سالہ ندیم جنھوں نے اپنے بازؤں میں اپنے چھوٹے سے کزن کو اُٹھا رکھا تھا، نے مجھے بتایا کہ ’ہمیں اقوامِ متحدہ پر اعتماد نہیں ہے۔ ہمیں صرف خدا پر اعتماد ہے۔ وہ ہمیں آزادی دے گا۔‘

انھیں قید سے باہر نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مقامی خیراتی ادارے تھائی حکام سے ضمانت کی درخواست دائر کریں۔ ایک شخص کی رہائی پر 1250 ڈالر لاگت آتی ہے۔ اس لیے وہ جنھیں سب سے کمزور تصور کرتے ہیں یہ عمل صرف اُن کے لیے کرتے ہیں۔

زیرِحراست افراد کے متعلق کوئی قانونی اعداد وشمار موجود نہیں ہیں لیکن مہم کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ہر ماہ سینکڑوں کی تعداد میں بڑھ رہے ہیں۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ گذشتہ سال مارچ میں صرف ایک روز کے دوران 132 پاکستانی عیسائیوں کو گرفتار کیا گیا۔ تھائی لینڈ میں 11 ہزار 500 پاکستانی پناہ گزینوں کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جو میانمار کے علاوہ دنیا میں کسی بھی ملک میں پناہ گزین افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اچانک مجھے وہ خاتون مل گئیں جن سے ملنے کی مجھے اُمید تھی۔ حفاظتی حصار کی دوسری جانب صابر کی بیوی لیلیٰ موجود تھیں۔ یہ ایک جذباتی قسم کی ملاقات تھی۔ وہ یقینی طور پر اپنے خاندان کو دیکھنے کے لیے بہت بے چین تھیں۔ انھوں نے ملتجیانہ انداز میں کہا ’میں اُنھیں بہت یاد کرتی ہوں، میری بیٹیوں کو یہاں لے آئیں تاکہ میں اُن کے چہرے دیکھ سکوں۔ لیکن مستقبل میں اپنی بیٹیوں کو دیکھنے کا صرف ایک ہی راستہ اُن کے پاس ہے اور وہ یہ ہے کہ اُنھیں بھی گرفتار کرلیا جائے۔‘

بی بی سی کو ایک بیان دیتے ہوئے یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ وہ تھائی حکومت کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل نکالنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ ’بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق بہتر اور مزید رحم دلانہ انتظام بنانا بہت ضروری ہے۔‘

تھائی حکومت کا اصرار ہے کہ ’عالمی انسانی اصولوں پر مبنی ہر ممکن بہترین دیکھ بھال فراہم کرنے کی پُوری کوشش کررہی ہے۔‘ اس کے باوجود کچھ پاکستانی عیسائیوں اور اُن کے بچوں کو بہت خراب صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ جو 4000 بھات ادا کرنے کے قابل نہیں اُنھیں گرفتار کرکے تھائی لینڈ کی بدنامِ زمانہ جیلوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی گذشتہ ماہ 20 پاکستانی خواتین، بچوں اور مردوں کے ایک گروہ کے ساتھ ہوا۔ خواتین کے علاوہ مردوں کے سر منڈھ دیے گئے اور اُن کے ٹخنوں اور ہاتھوں کو باندھ دیا گیا۔

اُن کے ایک کلاس فیلو ڈینیئل نے جب بتایا کہ اُن کی تلاشی کس طرح لی گئی تو وہ بتاتے ہوئے رو پڑے ’ہمیں پہننے کے لیے جو کچھ دیا جاتا تھا وہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔‘

ایک مقامی مسیحی مُبلغ نے آخرکار اُنھیں اس قید سے رہائی دلائی۔

لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ڈینیئل اب بھی اُن کے لیے دعا کرتے ہیں اور اُنھیں معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں