کم عمر لڑکیوں سے زیادتی پر چھ افراد کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تینوں بھائیوں، ارشد حسین، بشارت حسین اور بنارس حسین کے بارے میں تاثر پایا جاتا تھا کہ وہ رودھرم کے حکمران ہیں: جج

برطانیہ کے شہر رودھرم کی ایک عدالت نے کم از کم پندرہ کم عمر لڑکیوں سےریپ کرنے اور انہیں جسم فروشی پر مجبور کرنےکے جرم میں چھ افراد کو 35 سے 10 برس تک قید کی سزا سنائی ہے۔

جن افراد کوسزا سنائی گئی ہے ان میں تین بھائی اور ان کے چچا کے علاوہ دو عورتیں بھی شامل ہیں۔

شیفلڈ کی کراؤن کورٹ نے چالیس سالہ ارشد حسین کو 35 سال، ان کے دو بھائیوں بشارت حسین اور بنارس حسین کو بالترتیب 25 اور 19 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ ان کے چچا قربان علی کو10 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس گروہ کی ساتھی عورتوں میگراگور کو 13 برس جبکہ شیلی ڈیوس کو 18 ماہ قید کی معطل سزا سنائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مجرموں کے چچا سالہ قربان علی کو 10 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے

ان اشخاص پر الزام تھا کہ انھوں نے کم عمر لڑکیوں کو جنسی ضرورت کے لیے تیار کیا اور پھر انہیں ہوس مٹانے کے لیے نہ صرف خود استعمال کیا بلکہ ان لڑکیوں کو بطور طوائف استمعال کر کے منافع کمایا۔

شیفلڈ کی کراؤن کورٹ نے ارشد حسین اور بشارت حسین کو جنسی زیادتی، اغوا، غیر قانونی حراست اور جان سے مار دینے کی دھمکیوں جیسے 38 جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔

مجرموں کے ایک بھائی بنارس حسین نے مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی دس الزامات کو مان لیا تھا۔

اس گروہ کی ساتھی میگراگور اور ڈیوس کو 21 برس سے کم عمر کی عورتوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کے لیے قید میں رکھنے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

ان تین بھائیوں کےچچا 53 سالہ قربان علی کو ریپ کی سازش کا مجرم قرار دیاگیا ہے۔

مجرم گروہ کی سزا کا اعلان کرتے ہوئے جج سارہ وائٹ نے کہا کہ ان کے جرائم نے متاثرہ افراد، ان کے خاندانوں اور کمیونٹی کو ناقابل یقین حد تک نقصان پہنچایا ہے۔’ان (متاثرہ لڑکیوں) کےبچپن اور نوجوانی کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔‘

جج نے کہا کہ یہ بھائی علاقے میں اپنی نمایاں کاروں اور اپنے متشدد رویے کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

جج نے کہا کہ علاقے میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ وہ رودھرم پر حکمرانی کرتے ہیں اور انھوں نے اس شہرت کا بھر پور استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میک گریگور کمزور لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتی تھیں

دو ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائیل کے دوران تینوں بھائیوں جو میڈ ایش، بیش، اور بونو کے نام کے سے جانے جاتے تھے، بتایا گیا کہ انھوں نے لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کے لیے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک متاثرہ لڑکی صرف گیارہ برس کی تھی جب میڈ ایش یا ارشد حسین نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ اگلے پانچ برسوں تک اسے ’قرض‘ اتارنے کے لیے بار بار دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی فعل پر مجبور کیا گیا۔

ایک اور لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ ایک بار اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ موت کے قریب پہنچ چکی ہے جب بشارت حسین اسے اپنی کار میں بٹھا کر پیک ڈسٹرکٹ لےگئے اور کہا ’کہ اپنی قبر خود کھودو۔‘

عدالت کو بتایاگیا کہ بنارس حسین نے ایک لڑکی کے ساتھ رودھرم پولیس سٹیشن کے پہلو میں واقع پارک میں اپنی گاڑی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایک اور گواہ نے ان بھائیوں کو ’جانور کا جتھا‘ قرار دیا تھا۔

جیوری کو بتایاگیا کہ میک گریگور نے ڈیوس کی مدد سے کمزور لڑکیوں کو ’ہینسل اینڈ گریٹل‘ ہاؤس میں پناہ دینے کے بہانے انھیں وہاں رہنے کا جھانسہ دیتی اور پھر ’رہائش کا خرچہ‘ پورا کرنے کے لیے انھیں جسم فروشی پر مجبور کرتی تھیں۔

اسی بارے میں