جنسی جرائم پر دو سابق فوجیوں کو 360 سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گواتےمالا میں حالیہ فیصلہ خواتین کے حق میں اہم قدم

لاطینی امریکی ملک گوئٹےمالا میں ایک عدالت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے فوج کے دو سابق اہلکاروں کو 360 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

فرانسیسکو ریس جیرون کا تعلق سوپر زارکو فوجی اڈے سے تھا اور وہ وہاں کمانڈر تھے جبکہ ہیری برتو والڈیز اسیج فوجی کمیشنر تھے۔

انھیں مقامی خواتین کے ایک گروپ کو جنسی تسکین کے لیے غلام بنانے، ان کا ریپ اور قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گوئٹےمالا کی مسلح جنگ میں جنسی تشدد کے لیے یہ پہلا کامیاب فیصلہ ہے۔

جب جج نے مقدمے کا فیصلہ سنایا تو عدالت میں موجود لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تحسین کے نعرے سنائی دیے۔

سماعت کے دوران عدالت میں موجود نوبیل امن انعام یافتہ ریگوبرٹا مینچو نے کہا: ’یہ تاریخ فیصلہ ہے۔ یہ خواتین کے حق میں بڑا قدم ہے اور سب سے بڑھ کر متاثرین کے لیے بہت بڑی بات ہے۔‘

فرانسسکو جیرون کو 15 خواتین کو جنسی اور گھریلو خادمہ کے طور پر غلام بنانے ایک خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کے قتل کا مرتکب قرار دیا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دائیں جانب فرانسسکو جیرون کو دیکھا جا سکتا ہے جنھیں 120 سال قید کی سزا ہوئی ہے

جبکہ ہیری برٹو والڈیز کو ان الزامات کے علاوہ سات مردوں کی گمشدگی کا بھی مجرم پایا کيا۔

عدالت نے سوپر زرکو فوجی اڈے پر سنہ 1980 کی دہائی میں رونما ہونے والے خوفناک واقعات کی تفصیل سنی۔

استغاثہ کے مطابق مسلح افواج نے سوپر زرکو کے علاقے میں بار بار حملے کیے اور میان کوئچے کے رہنماؤں کو یا تو قتل کر دیا یا پھر انھیں اٹھا لیا کیونکہ ان کا مقامی زمینداروں سے زمین کے مالکانہ حق کے بارے میں جھگڑا تھا۔ یہ لوگ بائیں بازو کی چھاپہ مار جماعت سے منسلک تھے۔

ایک شخص آگستین چین جو اس میں بچ گیا تھا اس نے بتایا کہ فوج انھیں سیل مین لے جاکر ہر روز مارا پیٹا جاتا۔

انھوں نے کہا: ’ان لوگوں نے سات افراد کواس جگہ گرینیڈ پھینک کر قتل کر دیاجہاں انھیں رکھا گيا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption والڈیز اسجی کو 240 سال قید کی سزا ہوئی ہے

عدالت کو بتایا گيا کہ کس طرح فوجی کمانڈروں کے لیے کوئچے کی خواتین ’جنسی تسکین کے لیے دستیاب‘ تھیں۔

انھیں ہر تیسرے دن فوجی اڈے پر ’شفٹ‘ کے لیے رپورٹ کرنے کے لیے کہا جاتا جس کے دوران ان کا ریپ کیا جاتا اور جنسی طور پر ان کا استحصال کیا جاتا اور انھیں فوجیوں کے لیے کھانا پکانے اور صفائی کا کام کرنے پر مجبور کیا جاتا۔

خواتین کی نمائندگی کرنے والی 70 سالہ ڈیمیسیا یاک نے کہا: ’ہمارا ریپ کیا گیا اور یہ سب ہوتا رہا، ہمارے شوہر کہاں تھے یہ ہمیں معلوم نہیں تھا۔‘

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے پس نسلی امتیازات بھی کارفرما تھے۔

اسی بارے میں