بغداد میں خود کش حملے: 31 ہلاک، 50 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جمعرات کو بغداد کی ایک شیعہ مسجد پر کیے جانے والے بم حملے کی ذمہ داری بھی نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی

عراقی حکام کے مطابق ملک کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلات کے مطابق دو خود کش بمباروں نے شہر کے شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی کو نشانہ بنایا ہے۔

خود کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کہنے والے گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

دولتِ اسلامیہ شمالی اور مغربی عراق کے بڑے حصے پر قابض ہے اور حالیہ دنوں میں اس نے متعدد بار ملک کی شعیہ آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔

حکام کے مطابق حال ہی میں بغداد میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں یہ حملے سب سے شدید ہیں۔

دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مزید حملوں سے بچنے کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اکثر بم دھماکے کے بعد جب جائے وقعہ پر لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو عسکریت پسند مزید دھماکے کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔

جمعرات کو بغداد کی ایک شیعہ مسجد پر کیے جانے والے بم حملے کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے انٹرنٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کی شیعہ آبادی پر حملے جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں