خود کش حملے میں عراقی جنرل ہلاک

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں تیزی آئی ہے

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مغربی عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی طرف سے کیے گئے ایک خود کش حملے میں ایک عراقی جنرل اور نو دیگر فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کے یونیفارم پہنے چار افراد پیر کو حدیثہ کے قریب ایک فوجی اڈے میں داخل ہوئے اور خود کو اڑا لیا۔

دھماکے میں جزیرہ اور بدیہ آپریشنز کمانڈ کے چیف آف سٹاف بریگیڈیئر جنرل علی آباؤد ہلاک ہو گئے۔

حملے میں کم از کم آٹھ فوجی زخمی بھی ہو گئے۔

پیر کو ہی مشرقی شہر مقدادیہ میں ایک جنازے میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس جنازے میں کئی شیعہ ملیشیا کمانڈر شرکت کر رہے تھے۔ بغداد میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے ایک بم حملے میں بھی آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اتوار کو بغداد میں شیعہ اکثریت والے علاقے صدر سٹی میں جنگجوؤں کے دو مصروف بازار پر حملے میں 70 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سامرا حملہ

بغداد سے تقریباً 190 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع حدیثہ اور اس سے متصل ڈیم ہی انبار صوبے کے کچھ حصے ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

عراقی حکومت کی فوج اور اس کے اتحادی سنی قبائلیوں نے گذشتہ 18 مہینوں سے امریکی سربراہی کے اتحاد کے فضائی حملوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کو وہاں داخل ہونے سے روکا ہوا ہے۔

پیر کو چار جنگجو جزیرہ اور بدایا آپریشنز کمانڈ کے صدر دفتر میں داخل ہوئے اور فوجیوں پر حملہ کر دیا۔

جزیرہ اور بدایا آپریشنز کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل دابون نے بتایا کہ ایک بمبار نے جنرل آباؤد کے دفتر کے اندر خود کو اڑا دیا جبکہ تین دیگر نے دوسری جگہوں پر اپنی دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹوں کو پھاڑا۔

اسی بارے میں