ٹرمپ اور ہلری کلنٹن کا بڑا امتحان

Image caption ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ رپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں

امریکہ میں ڈیموکریٹ اور رپبلکن جماعتوں کے صدراتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے جاری دوڑ کے اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں منگل کو گیارہ ریاستوں میں ان دونوں جماعتوں کے ارکان ووٹ ڈال رہے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے اس مرحلے کو امریکہ میں ’سپر ٹیوز ڈے ‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس دن ایک ساتھ گیارہ ریاستوں میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور کافی حد تک یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ڈیموکریٹ اور رپبلکن جماعتوں کی طرف سے کونسا امیدوار صدارتی دوڑ میں اتارا جائے گا۔

سپر ٹیوز ڈے پر جن ریاستوں میں پارٹی مندوب صدارتی امیدوار چننے کے لیے اپنے ووٹ ڈالیں گے ان میں منیسوٹا، میساچیوسٹس، ورمونٹ، ورجنیا، ٹینیسی، جارجیا، الباما، آرکنساس، اوکلاہوما، ٹیکساس، اور کولاراڈو۔

سپر ٹیوز ڈے کو پولنگ کا آغاز علی الصبح ورجینا میں ہوا۔

اس وقت حزب اقتدار ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش میں سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے برنی سینڈرز شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بش خاندان کے چشم و چراغ جیب بش پہلے ہی صدارتی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں

ہلری کلنٹن کا اب تک اس دوڑ میں برنی سینڈرز کے مقابلے میں پلڑا بھاری ہے۔

رپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کی دوڑ ماضی کے مقابلے میں اس بار انتہائی دلچسپ ہے۔ ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی چار میں سے تین پرائمریز میں فتح حاصل کر کے نہ صرف ماہرین کو ششدر کر دیا ہے بلکہ امریکی تاریخ کے سب سے مضبوط سیاسی خاندان کے چشم و چراغ جیب بش کو صدراتی دوڑ سے باہر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ سپر ٹیوز کوگیارہ ریاستوں میں ہونے والی پرائمریز میں دوسرے امیدواروں سے برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا جو اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے ہمیشہ شہ سرخیوں میں رہتے ہیں، مقابلہ مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز سے ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ سپر ٹیوز ڈے کو بھی اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے تو انھیں رپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے سے روکنا شاید کسی کے بس میں نہ ہو۔

سینٹر ٹیڈ کروز ٹیکساس میں ہارنے سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ یہ ان کی اپنی ریاست ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا میساچیوسٹس میں ہارنے سے ان کی مہم کا سارا زور ٹوٹ سکتا ہے۔

ادھر ڈیموکریٹ پارٹی کی صدرارتی دوڑ میں ہلری کلنٹن بھی سپر ٹیوز ڈے کو اچھی کارکردگی کو جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ نیو ہمپشائر میں برنی سینڈرز کے ہاتھوں شکست کے بعد ہلری کلنٹن کی مہم سنبھل گئی ہے اور جس طرح سیاہ فام امریکیوں نے جنوبی کیرولینا میں ان کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں اس سے ان کی صدارتی مہم میں نئی جان پڑ گئی ہے۔

اسی بارے میں