شام:جنگ بندی کی’خلاف ورزیوں‘ کی تحقیقات ہوں گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان کیری کے مطابق جنیوا اور عمان میں موجود ٹیمیں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اطلاعات کا جائزہ لیں گی

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ شام میں عبوری جنگ بندی کی تمام مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس مل کے ایسا طریقۂ کار مرتب کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جس کے تحت دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک گروہ النصرہ فرنٹ جیسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف کی جانے والی تمام کارروائیوں کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

کیری کے مطابق فریقین نے باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا ہے کہ مبینہ خلاف ورزیوں پر ہونے والی گفتگو سامنے نہیں لائی جائے گی۔

سنیچر کے روز شام میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد جو بظاہر اب بھی برقرار ہے، معاونین پر مشتمل وفود شام کے تشدد زدہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

تاہم فرانس کی جانب سے شامی اور روسی جنگی طیاروں کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں فضائی حملوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد شدت پسند گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

جان کیری نے واشنگٹن میں جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹائن مائر کے ساتھ ملاقات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا اور اردن کے دارالحکومت عمان میں موجود ٹیمیں خلاف ورزی کی اطلاعات کا جائزہ لیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے بارے میں دنیا کے سامنے بحث نہیں کی جائے گی

جان کیری نے کہا کہ ’ہم ہر مبینہ خلاف ورزی کا پتا چلائیں گے اور ایسا نظام تشکیل دینے کے لیے زیادہ مرکوز ہو کر کام کریں گے جس کی مدد سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں النصرہ یا پھر داعش (دولت اسلامیہ) کے خلاف ہی ہوں۔‘

کیری نے مزید کہا کہ روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف اور انھوں نے اس بات پہ اتفاق کیا ہے کہ دونوں جانب سے سامنے آنے والی خلاف ورزی کی اطلاعات کے بارے میں ’دنیا کے سامنے بحث‘ نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مقصد امریکہ اور روس کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے نہ کہ اسے کمزور کرنا۔

کیری کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ کہ ممکنہ طور پر دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے تاہم کوئی خلاف ورزی بھی اتنی بڑی یا اہم نہیں تھی جس سے جنگ بندی کا خاتمہ ہوجائے۔

انھوں نے امدادی سامان کی رسد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور مبینہ طور پر دوسروں سے سامان چوری کرنے پر شام کے حکام پر تنقید بھی کی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا، پانی اور ادویات کی فراہمی میں تیزی لائی گئی ہے اور کوشش ہے کہ پانچ دن میں ڈیڑھ لاکھ افراد تک ان اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ساڑھے چار لاکھ سے زائد شامی باشندے تشدد زدہ شہروں اور دیہات میں محصور ہیں جبکہ دیگر 40 لاکھ سے زائد افراد دشوار گزار علاقوں میں ہیں

انھیں امید ہے کہ رواں سال مارچ کے اختتام تک دشوارگزار علاقوں میں 17 لاکھ افراد تک امداد پہنچا دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار لاکھ سے زائد شامی باشندے تشدد زدہ شہروں اور دیہات میں محصور ہیں جبکہ دیگر 40 لاکھ سے زائد افراد دشوار گزار علاقوں میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ کہ ہمیں کچھ واقعات کا سامنا کرنا پڑا تاہم تشدد کے خلاف بڑی حد تک جنگ بندی اب بھی قائم ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی ٹاسک فورس ’اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ واقعات (اور علاقوں تک) نہ پھیلیں اور تشدد کے خلاف جنگ بندی جاری رہے۔‘

حزب اختلاف کی ہائی نگوشی ایشن کمیٹی (اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی) کے جنرل کوآرڈی نیٹر ریاض حجاب نے متنبہ کیا ہے کہ اگر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اقوام متحدہ کی پانچ سالہ تنازعے کے سیاسی حل کے تلاش کی کوششیں اور مذاکرات کی بحالی خطرے میں پڑجائیں گے۔

اسی بارے میں