ہلری اور ٹرمپ سات، سات ریاستوں میں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلیری کلنٹن نے ایلاباما، میساچوسٹس،جورجیا، ٹینیسی، ورجینیا، آرکنساس اور ٹیکسس میں کامیابی حاصل کی ہے

امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے ملک کی 11 ریاستوں میں ڈیموکریٹ اور رپبلکن جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے چناؤ کے لیے منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ترین امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔

ڈیموکریٹ امیدواروں میں سے ہلری کلنٹن جبکہ رپبلکن امیدواروں میں سے ڈونلڈ ٹرمپ نے سات، سات ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ہلری کے قریب ترین حریف سینڈرز چار اور ٹرمپ کے حریف ٹیڈ کروز دو ریاستوں میں یہ انتخاب جیت سکے ہیں۔

امریکی ووٹروں نے ’سپر ٹیوز ڈے‘ کو میساچیوسٹس سے ورجینیا تک اور ٹیکساس سے الاسکا تک ووٹ ڈالے۔

عموماً اس مرحلے کے بعد کافی حد تک یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ڈیموکریٹ اور رپبلکن جماعتوں کی طرف سے کونسا امیدوار صدارتی دوڑ میں اتارا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلری کلنٹن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے فیورٹ ہیں۔

ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق ہلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے ایلاباما، جورجیا، ٹینیسی، آرکنساس، میساچوسٹس اور ورجینیا کی ریاستوں میں فتح حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ ہلری کلنٹن ٹیکسس میں بھی کامیاب ہوئیں جہاں نیویارک سے تعلق رکھنے والے ارب پتی کاروباری شخصیت ٹرمپ کو اپنے حریف ٹیڈ کروز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹیڈ نے ٹیکسس کے علاوہ اوکلاہوما میں بھی فتح حاصل کی جبکہ منیسوٹا کی ریاست ایک اور ریپبلکن امیدوار مارک روبیو کے حصے میں آئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ ورمونٹ میں بھی کامیاب رہے جبکہ یہاں ڈیموکریٹ پرائمری میں ہلری کلنٹن کے حریف برنی سینڈرز جیتے ہیں۔

ورمونٹ سینڈرز کی آبائی ریاست ہے اور اس کے علاوہ انھوں نے اوکلاہوما، کولوراڈو اور منیسوٹا میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

منگل کو نتائج آنے کے بعد اپنی تقریر میں ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ’اس الیکشن میں جتنا کچھ داؤ پر لگا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں لگا اور مخالف سمت سے جو بیانیہ ہم سن رہے ہیں اس سے گھٹیا بیانیہ بھی اس سے پہلے کبھی نہیں سنا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ورمونٹ میں اپنے حریفوں سے آگے ہیں جبکہ ورجینیا میں ان کا مارکو روبیو کے ساتھ سخت مقابلہ ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رپبلکن پارٹی کو متحد کرنے والی شخصیت ہیں جو جماعت کے اندرونی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ہلری کلنٹن کے خلاف انتخابی جنگ پر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

فلوریڈا میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’جب یہ سب (پرائمریز) ختم ہو جائیں گی تو میں ایک فرد کو اپنا ہدف بناؤں گا جو ہلری کلنٹن ہیں۔‘

ادھر ٹرمپ کے مخالف ریپبلکن امیدوار اور ٹیکسس سے سینیٹ کے رکن ٹیڈ کروز نے اپنے دیگر حریفوں سے کہا ہے کہ وہ نامزدگی کی دوڑ سے علیحدہ ہو جائیں تاکہ وہ زیادہ موثر انداز سے ٹرمپ کا مقابلہ کر سکیں۔

اسی بارے میں