امتحانوں میں یقینی کامیابی کے نُسخے

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

امتحانات کا سوچ کر ہر کوئی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر مشرقی ایشیا کے ممالک میں طلبہ پر یہ دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے کہ اگر ان کے نتائج شاندار نہ ہوئے تو ان کے مسقتبل کا کیا ہوگا۔

مشرقی ایشیائی ممالک کی اپنی اپنی معاشرتی اقدار ہیں اس لیے ہر ملک میں طلبہ بُرے نتائج کے اندیشے میں مختلف رسومات کا سہارا لیتے ہیں، جن میں خوش بختی کے گیت گانا، امتحانوں کے دنوں میں خاص قسم کی خوراک استعمال کرنا، حتٰی کہ خاص رنگ کے کچّھے پہننا بھی شاملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ na

کایا پلٹ کِٹ کیٹ

جاپانی طلبہ میں امتحان کے دن ’کتسودان‘ نامی کھانا کھانے کی روایت پرانی ہے۔ اس کھانے میں گرم چالوں پر انڈا اور سؤر کے گوشت کے کتلے ڈال کر کھایا جاتا ہے۔

اس کھانے کے نام میں شامل لفظ ’کتسو‘ کا مطلب ہے ’کامیابی‘۔ یعنی یہ خوارک کھانے والا طالبعلم امتحان میں ضرور کامیاب ہو گا۔

لیکن گذشتہ کئی برسوں سے جاپان میں مشہور چاکلیٹ ’کٹ کیٹ‘ بنانے والے بھی کہہ رہے ہیں کہ کامیابی ان کی چاکلیٹ کھانے والے طلبہ کے قدم بھی چومتی ہے۔

جاپان میں کِٹ کیٹ کو ’کِتو کاتسو‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ’یقینی کامیابی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

کامیابی کی ضمانت سیب

ہانگ کانگ کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اندر کینٹینوں اور چھوٹی چھوٹی دکانوں میں امتحانوں کے دنوں میں سیب ضرور فروخت ہوتے ہیں۔ نہ صرف تازہ سیب بلکہ سیب سے بنی ہوئی کئی قسم کی میٹھی چیزیں بھی۔

چینی زبان میں سیب کو ’پِنگ کواؤ‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ’تحفظ یا حفاظت‘ بھی ہے‘۔ یعنی سیب کھانے والا ناکامی کے خطے سے ’محفوظ‘ رہے گا اور امتحان پاس کر جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

بال دھونے سے پرہیز

ساری ساری رات کتابیں اور نوٹس دُھرانے، مائیکرو ویو میں کھانا گرم کرنے اور اپنے مارکر سے نوٹس پر نشان لگانے میں مگن رہنے کے بعد ہو سکتا ہے کہ آپ یہ بھی بھول جائیں کہ آپ کئی دنوں سے نہائے بھی نہیں ہیں۔

لیکن فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جنوبی کوریا میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ سر کے بال دھوئیں گے تو آپ کے دماغ میں محفوظ سارا علم بھی پانی میں بہہ جائے گا۔

جوبی کوریا کے ایک طالبعلم نے ہمیں بتایا کہ ’ہماری جماعت میں ایک لڑکا تھا جس نے امتحانوں سے پہلے سر دھونا چھوڑ دیا تھا۔ امتحانوں سے پہلے وہ ہمیشہ صاف ستھرا رہتا تھا، لیکن یہ معلوم ہونے کے بعد کہ وہ امتحانوں سے پہلے نہانا چھوڑ دیتا ہے، ہر کوئی اس کے قریب جانے سے بھی کتراتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

امتحانوں کا پاگل پن

ہانگ کانگ میں امتحانات سے تقریباً ایک ماہ پہلے طلبہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کلبوں اور ہاسٹلوں میں ’سُپر پاس‘ یا ’جنگ گاؤ‘ کے لیے جمع ہونا شروع کر دیتے ہیں۔

’سُپر پاس‘ دراصل مختلف سرگرمیوں کے اس مجموعے کا نام ہے جن کا مقصد اعزازی نمبروں سے امتحان پاس کرنا ہے۔ ان سرگرمیوں کا پہلا مرحلہ ایک بڑا کھانا ہوتا ہے جس کے لیے طلبہ کسی چینی ریستوران میں جمع ہوتے ہیں۔

کھانے کی اس تقریب میں تمام طلبہ کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ سور کے گوشت کے کتلے اور کاجو کھائیں۔ چینی میں کاجو کے لیے جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس کا مطلب ’امتحان پاس کی خواہش‘ ہوتا ہے جبکہ سور کے گوشت کے کتلوں کے لیے جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس کا مطلب ’اعزاز کی خواہش‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ na

خوش قسمتی کا ٹکڑا

ریستوران سے واپس ہاسٹل پہنچے کے بعد ہر طالبعلم ایک بہت بڑے روسٹ سور کے گوشت کا ٹکڑا کاٹ کر کھاتا ہے۔ چین میں کسی کو سور کے گوشت کا ٹکڑا پیش کرنا مقدس سمجھا جاتا ہے۔

اس تقریب میں شامل ہر طالبعلم کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ چاقو اٹھائے اور سور کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے تھوڑا تھوڑا کاٹے۔

وہ طالبعلم جو چاقو استعمال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، اسے آئندہ امتحانات میں کامیاب سمجھا جاتا ہے، جبکہ جو ٹکڑا نہیں کاٹ پاتا، اس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اسے کچھ پرچے دوبارہ دینا پڑیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کامیابی کی دعائیں

مشرقی ایشیائی ممالک میں بہت سے طلبہ ایسے بھی ہیں جنھیں اپنے والدین کی دعاؤں کا سہارا بھی حاصل ہوتا ہے، قطع نظر اس کے طلبہ خود عبادت یا دعا کو اہمیت دیتے ہوں یا نہ۔

جنوبی کوریا کے ایک استاد کا کہنا تھا کہ ’ کچھ والدین امتحانی مرکز کے باہر کھڑے ہو کر اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ میری ماں نے بھی میرے لیے بہت دعائیں کی تھیں، لیکن میرا نتیجہ پھر بھی بہت بُرا آیا تھا۔‘

وہ والدین جنھیں اپنے بچوں کی کامیابی کی بہت فکر ہوتی ہے، وہ امتحانوں سے سو دن پہلے ہی روزانہ مندروں میں جا کر منّتیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

لکی گھڑی بمقابلہ یخنی

جنوبی کوریا میں سمندری کائی سے بنی ہوئی یخنی یا سُوپ بہت شوق سے پیا جاتا ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ کوئی طالبعلم جتنا زیادہ لیسدار سوپ پیتا ہے اتنا ہی اس بات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ اس نے جو سبق یاد کیا ہوا ہے وہ اسے بھول جائے گا۔

ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ ’میری خواہش ہوتی ہے کہ میں یہ سُوپ نہ ہی پیوں، لیکن اگر میں سوچے بغیر سوپ پی بھی جاؤں تو میں زیادہ پریشان نہیں ہوتا۔‘

لیکن چین کی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ ’ میری اپنی روایت یہ ہے کہ میں امتحان کے دن صبح سوئیاں یا نوڈلز کھاتی ہوں، کیونکہ چینی زبان میں سوئیوں کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ’سب ٹھیک ہو گا‘ ۔ لیکن میں اس کے علاوہ ایک گھڑی بھی پہنتی ہوں جو خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

مرغی کی طاقت

تھوڑی سی چینی کھانے سے آپ میں توانائی آ جاتی ہے، لیکن جنوبی کوریا کے لوگ سمجھتے ہیں کہ میٹھے ناشتے یا سنیک میں بھی امتحان پاس کرانے کی طاقت ہوتی ہے۔

اسی لیے یونیورسٹی میں داخلے جیسے اہم امتحانات سے پہلے ’یوئٹ‘ نامی لیسدار کھانا کھایا جاتا ہے۔

جی یُون کا کہنا ہے کہ ’ یوئٹ ایک لیسدار پکوان کو کہتے ہیں اور کوریائی زبان میں ’لیسدار‘ کے لیے جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس کا مطلب ’داخلے کا امحان پاس کرنا‘ بھی ہے۔

اور اگر آپ یوئٹ نہیں کھانا چاہتے تو آپ مرغی کی یخنی پی سکتے ہیں کیونکہ مرغی کی یخنی سے بھی دماغ بہت تیز ہو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thninkstock

سرخ رنگ کا کچّھا پہنیں

چین میں سرخ رنگ کو ہر کوئی خوش بختی کی علامت سمجھتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امتحانوں کے دنوں میں سرخ رنگ کا لباس پہننا چاہیے، بلکہ زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ آپ سرخ کچھّا پہن کر امتحان دینے جائیں۔

چین میں جب کسی شخص کو بڑی کامیابی نصیب ہوتی ہے تو لوگ اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے سرخ کچّھا تو نہیں پہنا ہوا۔

لیکن ایک چینی طالبعلم وانگ کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ سرخ رنگ کے کچھّوں سے پرہیز کرنا شروع کر دیں کیونکہ جب نتیجہ آتا ہے تو جس مضٰمون میں آپ فیل ہوتے ہیں اس کے نمبر بھی سرخ رنگ میں لکھے ہوتے ہیں۔

رحم کی دعا

یونیورسٹی کے طلبہ گھنٹی کی شکل والے دیوتا سے بہت ڈرتے ہیں کیونکہ ایشیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں امتحانوں میں نتائج کی درجہ بندی جس نظام کے تحت کی جاتی ہے اس ’بیل کروّ‘ کہا جاتا ہے جس میں درجہ اول میں امتحان پاس کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

اس نظام کے تحت یہ اہم نہیں ہوتا کہ کہ آپ کی انفرادی کارکرگی کیسی رہی، بلکہ اس میں یہ بات بھی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ باقی طلبہ کے مقابلے میں آپ کی کارکردگی کیسی رہی۔

اسی لیے سنگاپور کی دونوں بڑی یونیوسٹیوں میں گھنٹی کی شکل والے دیوتا کے مندر قائم ہیں جہاں طلبہ امتحانوں میں کامیابی کے لیے شمعیں جلاتے ہیں اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔