شمالی کوریا کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سےاقوام متحدہ کے ریکارڈ کا معائنہ کرنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے آئندہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کرے گا۔

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری سو یونگ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل ’سیاسی رنگ لیے، یکطرفہ رجحانات، اور دوہرے معیارات‘ پر مبنی ہے اور جان بوجھ کر شمالی کوریا کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے شہریوں کے ساتھ برے سلوک پر شمالی کوریا کو کئی بار تنقید کانشانہ بنایا گیا ہے۔

اس اقدام کے بعد شمالی کوریا ممکنہ طور پرمزید الگ تھلگ ہوجائے گا جبکہ اسے آنے والے دنوں میں نئی پابندیوں کا سامنا بھی ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سےجوہری ہتھیاروں کے چوتھے تجربے اور سیٹلائیٹ فضا میں چھوڑنے کے بعد رواں ہفتے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے دوران شمالی کوریا کے خلاف نئے اقدمات کےلیے ووٹنگ کی جائے گی۔

شمالی کوریا کی جانب سے اٹھائے گئے دونوں اقدامات اس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہیں۔

کونسل کے لیے دیے گئے اپنے بیان میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے امریکہ سمیت دیگر ممالک پر ’شمالی کوریا کے نام نہاد منحرفین‘ سے پیسوں کے عوض بیانات دلوانے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کونسل کی طرف سے پاس کی جانے والی کسی بھی قرارداد کا ’کبھی بھی پابند نہیں‘ ہوگا۔

سنہ 2014 میں اقوام متحدہ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں شمالی کوریا پر’منظم طریقے سے سنگین اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان میں جبری مشقت، لوگوں کی گمشدگیاں، تشدد، زیادتی، اور بچوں کا قتل شامل ہیں۔

اسی بارے میں