سرِعام گالیاں دینے کے خلاف قانون پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانیہ میں غیر سماجی رویے پر پہلے بھی ضوابط موجود ہیں

برطانیہ میں ایک مقامی کونسل کی طرف سے سرِ عام گالیاں دینے اور نامناسب زبان استعمال کرنے کو جرم قراد دینے کو انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم آزادی اظہار کے منافی قرار دے رہی ہے۔

برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے قریب سلفرڈ سٹی کونسل نے غیر سماجی رویے کے خلاف مہم کے تحت سرِ عام گالیاں دینے کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے۔

برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیم لبرٹی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی زبان مناسب نہیں ہے اور یہ رائے کی آزادی کے منافی ہے۔

سیلفرڈ کونسل نے جواباً کہا ہے کہ سرِ عام گالیاں دینے سے لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے اور وہ کوئی ایسا قانون بنانے پر معافی نہیں مانگے گی۔

لبرٹی نے سیلفرڈ سٹی کی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ سرِ عام گالیاں دینے کے بارے میں قانون آزادی رائے پر ایک ضرب ثابت ہو گا۔

پبلک سپیس پروٹیشکن آرڈر (پی ایس پی او) اگست سنہ 2015 میں جاری کیا گیا تھا اور یہ سیلفرڈ سٹی کے تمام علاقوں کے لیے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرِ عام گالیاں دینے والوں کو پولیس اس قانون کے تحت گرفتار کر سکتی ہے

لبرٹی نے کہا کہ اس میں جو گالیاں اور نامناسب زبان کی اصطلاح استمعال کی گئی ہے وہ بہت مبہم ہے۔ لبرٹی نے مزید کہا کہ اس میں یہ واضح نہیں ہے کہ کونسے الفظ گالی کے زمرے میں آئیں گے اور جو قابل تعذیر ہوں گے۔